پاکستان:’غذائی عدم تحفظ‘ میں اضافہ

خوراک کا بحران
Image caption سیلاب نے صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا ہے

عالمی ادارہ برائے خوراک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلاب کے باعث پاکستان میں مناسب خوراک تک رسائی نہ رکھنے والے افراد کی تعداد کل آبادی کے ستر فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان میں ’فوڈ ان سکیورٹی‘ یا مناسب خوراک تک عدم رسائی کے موضوع پر حال ہی میں تحقیق کرنے والے عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کے تحقیق کار صاحب حق نے سیلاب سے قبل مکمل کی گئی اپنی تحقیق کے حوالے سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا پاکستان میں مجموعی طور پر انچاس فیصد افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، یعنی انہیں مناسب اور ضروری خوراک میسر نہیں ہے۔

ایس ڈی پی آئی اور ایک سوئس ادارے کے تعاون سے ہونے والی اس تحقیق کے مطابق قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد سب سے زیادہ تعداد میں ’فوڈ انسکیورٹی‘ کا شکار ہیں جہاں ایسے افراد کا تناسب اڑسٹھ فیصد ہے۔ بلوچستان میں اکسٹھ فیصد افراد اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی کل آبادی کے چھپن فیصد کو مناسب خوراک تک رسائی نہیں ہے۔

اسلام آباد کے شہریوں کا صرف تیئس فیصد غذائی اشیاء تک عدم رسائی کا شکار ہے جبکہ ایسے افراد کی سب سے زیادہ شرح بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں رہتی ہے جہاں بیاسی فیصد افراد کو کافی کھانا نہیں ملتا۔

صاحب حق نے بتایا کہ گزشتہ چھ برس میں ایسے افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت چھیالیس ضلعوں میں افراد کو خوراک تک ضرورت کے مطابق رسائی نہیں تھی جبکہ ان سالوں میں مزید اضلاع اس فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔

جو اضلاع فوڈ انسکیورٹی کے لحاظ سے سر فہرست ہیں ان میں ڈیرہ بگٹی کے بعد، موسی خیل، اپر دیر، شمالی وزیرستان، کوہستان، مہمند، دالبندین، جنوبی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی، اور پنجگور کا نام آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مناسب خوراک تک عدم رسائی یا فوڈ انسکیورٹی کو ماپنے کے لیے مختلف عوامل کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس میں کھائی جانے والی خوراک کا معیار، گھریلو آمدن، خوراک پر اٹھنے والے اخراجات، رہن سہن کا معیار اور غذائی اشیا کی قیمتیں شامل ہیں۔

صاحب حق نے بتایا کہ پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کے باعث متوسط طبقے کے افراد اور غریب لوگوں کے کھانے پر اخراجات کم ہوتے چلے جا رہے ہیں اور وہ اپنی آمدن کا بڑا حصہ یوٹیلیٹیز، ادویات اور دیگر مدوں میں صرف کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فوڈ انسکیورٹی میں بے پناہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صاحب حق نے بتایا کہ اس پر سیلاب نے صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔

’ہمارا اندازہ ہے کہ جس طرح سے کسانوں کی فصلیں اور مویشی سیلاب کا شکار ہوئے ہیں اس کی بنیاد پر با آسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب ستر فیصد پاکستانی فوڈ انسکیورٹی کا شکار ہو چکے ہیں۔‘

وزارت خوراک و زراعت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی بیس فیصد قابل کاشت زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئ ہیں اور صرف پنجاب میں بارہ لاکھ مویشی سیلاب کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

صاحب حق نے بتایا کہ اس صورتحال میں نا صرف کسانوں کے پاس اپنے استعمال کے لیے خوراک کے ذخائر ضائع ہو چکے ہیں بلکہ فصلوں اور مویشیوں کو نقصان کے باعث سبزی، گوشت اور دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اجناس عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

صاحب حق نے بتایا کہ یہ صورتحال دو برس تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں