برطانیہ:حکومتی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ آج جذبہ ہمیشہ سے زیادہ مضبوط ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے یقین دلایا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے فسادات کے تناظر میں حکومت کی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ ٹوٹے ہوئے معاشرے کو دوبارہ پہلے جیسا کرنے کے لیے کافی ہیں۔

وزیرِ اعظم کیمرون کا کہنا تھا کہ وہ اُن منصوبوں پر کام تیز کررہے ہیں جن کی مدد سے معاشرے میں منفی رجحانات سے نمٹا جاسکے اور والدین کے طرزِ پرورش اور تعلیم معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سنہ 2015 میں آئندہ انتخابات سے قبل متاثر ہونے والے ایک لاکھ بیس ہزار خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں گے انہوں نے گینگ کلچر کے خاتمے کا بھی یقین دلایا۔

’حکومت فسادات برداشت نہیں کرے گی‘

لندن میں فسادات کا چوتھا دن: تصاویر

لندن کے مشرقی حصوں سے شروع ہونے والے فسادات بعد میں ویسٹ مڈ لینڈ، مرسی سائیڈ، برسٹل اور مانچسٹر تک پھیل گئے تھے، برطانوی وزیرِ اعظم کے مطابق ان فسادات نے ملک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا ’ہمارے معاشرے کے وہ مسائل جو کسی ناسور کی طرح پک رہے تھے ہمارے ہی چہروں پر آکر پھٹ گئے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا ’ اور اب جیسا کہ لوگوں کی بھی یہی خواہش ہے کہ سڑکوں پر جرائم کی وارداتوں کو روکا جائے اور ان مسائل سے نمٹا جائے، انہیں شکست دی جائے۔ ہماری سکیورٹی کی بحالی اور معاشرے کی بحالی میں مماثلت ہونی چاہئیے۔ ہمیں اُن رویوں اور تصورات سے لڑنا ہوگا جو ہمارے معاشرے کے بعض حصّوں کو اس نہج پر لے آئے ہیں‘۔

Image caption لندن سے شروع ہونے والے فسادات ملک کے بیشتر حصوں میں پھیل گئے تھے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بقول ان کے ملک میں غلط ہو جانے والی چیزوں کی لمبی فہرست بتائی جس میں وہ بچے جن کے والدین نہیں ہوتے، وہ سکولوں جہاں نظم وضبط نہیں ہوتا اور وہ معاشرے جہاں کنٹرول نہیں ہوتا شامل ہیں۔

انہوں نے یقین دلایا کے وہ اپنے وزراء کے ہمراہ وہ حکومت کے منصوبوں اور پروگرامز پر غور کریں گے کہ آیا وہ ’ ٹوٹے ہوئے معاشرے‘ کو بحال کرنے کے لئے کافی ہیں۔

جن پہلؤوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا ان میں تعلیم، خوشحالی، خاندان، والدین کا طرزِ پرورس، عادات، معاشرے، ’انسانی حقوق کے معاملات کو گھما پھرا کر پیش کرنا اور ان کی غلط ترجمانی کرنا جس سے کہ کسی شخص کی ذاتی ذمہ داری متاثر ہو‘ ، اور ’صحت اور حفاظت کے معاملے میں وہم جو لوگوں کی دانشمندی سے کام لینے کی خواہش کو ختم کر دیتی ہے‘۔

ڈیوڈ کیمرون نے اپنی تقریر میں ’ایک بڑے اور مضبوط معاشرے‘ کی جانب بڑھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آج جذبہ ہمیشہ سے زیادہ مضبوط ہے‘۔

اسی بارے میں