تین بم دھماکوں میں ستاون ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’گزشتہ ماہ عراق میں دو سو انسٹھ شہری ہلاک ہوئے‘

عراقی حکام کے مطابق ملک کے وسطی علاقے میں واقع شہر کوت میں دو اور دیالہ کے علاقے خان بنی سعد میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم سے کم ستاون افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ پیر کو بغداد سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع عراقی شہر کوت کے مرکز میں ایک پرہجوم مقام پر مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے دس منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے۔

اہلکاروں کے مطابق پہلے سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹا اور اس کے دس منٹ بعد جب سکیورٹی اہلکار جائے وقوع پر پہنچے تو ایک کار بم دھماکہ ہوا۔

کوت کے الزہرہ ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں اب تک سینتیس لاشیں لائی گئی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

ادھر صوبہ دیالہ کے علاقے خان بنی سعد میں بھی پیر کو ہی ایک خودکش حملہ آور نے میونسپلٹی کی عمارت کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں دس افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور کار میں سوار تھا اور اس نے بارود سے بھری کار عمارت کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی۔ خان بنی سعد کا علاقہ بغداد سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عراق میں سیاستدان امریکی فوج کے بچ جانے والے اہلکاروں کو عراق سے مکمل انخلا کے لیے مقرّرہ وقت کے بعد بھی عراق میں روکنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق کی مقامی فورسز میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ ملک کی حفاظت کر سکیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ عراق میں پرتشدد واقعات میں دو سو انسٹھ شہری ہلاک ہوئے اور یوں جولائی رواں سال کا دوسرا سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا ہے۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل اپنی رپورٹ میں عراق میں تعمیرِ نو کے لیے امریکی انسپکٹر جنرل سٹورٹ بووِن جونیئر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق گزشتہ برس کی نسبت زیادہ خطرناک جگہ ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دارالحکومت بغداد میں حملوں کے علاوہ امریکی فوجیوں اور سینیئر عراقی حکام کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ رپورٹ ان جائزوں کے بالکل الٹ ہے جو کہ امریکی فوج عموماً جاری کرتی ہے اور یہ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب امریکہ عراق میں باقی رہ جانے والے اپنے سینتالیس ہزار فوجیوں کو اس سال کے آخر تک واپس بلانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں