لیبیا:’باغیوں پر سکڈ میزائل سے حملہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکڈ میزائل ساحلی شہر سیرت سے بریقہ داغا گیا تھا

امریکی وزارتِ دفاع کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کی حامی فوجوں نے ملک میں چھ ماہ سے جاری خانہ جنگی کے دوران پہلی بار باغیوں پر حملے کے لیے سکڈ میزائل استعمال کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل ساحلی شہر سیرت سے بریقہ داغا گیا تھا جو باغیوں کے قبضہ میں ہے تاہم یہ کوئی نقصان پہنچائے بغیر صحرا میں جا گرا۔

لیبیا میں حکام کی جانب سے اس معاملے میں اب تک خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

امریکی فورسز نے سکڈ میزائل کا سراغ لگایا اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بندرگاہ بریقہ سے اسّی کلومیٹر دور صحرا میں جا کر گرا۔ کرنل قذافی اور باغیوں کے درمیان بریقہ پر مکمل دسترس حاصل کرنے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ لیبیا کی فوج کے پاس کم و بیش دو سو سکڈ میزائل ہیں۔

باغیوں کی دارالحکومت طرابلس کی جانب مسلسل پیش قدمی کی کوشش بظاہر کرنل قذافی کی فوجوں کی طرف سے میزائل داغنے کا موجب بنی ہے۔

پیر کو باغیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے دو اہم شہروں پر دسترس حاصل کر لی تھی جن کا راستہ طرابلس کی جانب جاتا ہے۔

طرابلس سے مغرب میں پچاس کلومیٹر دور واقع زاویہ اور جنوب میں اسی کلومیٹر دور غاریان میں لڑائی جاری ہے۔ زاویہ کے مضافات میں طبی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ کرنل قذافی کی فوجوں کی جانب سے فائر کیے جانے والے مارٹر گولوں اور فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کرنل قذافی کی فوج کو زاویہ کے مغرب میں واقع آئل ریفائنری پر اب تک دسترس حاصل ہے جہاں سے وہ اپنے استعمال کے لیے کثیر مقدار میں ایندھن حاصل کرتے ہیں۔

اس سے پہلے باغیوں نے دعوٰی کیا تھا کہ انہوں نے زاویہ پر مکمل دسترس حاصل کرلی ہے تاہم مقامی افراد نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اگر زاویہ باغیوں کی جھولی میں آجاتا ہے تو وہ طرابلس جانے والے زمینی راستے مسدود کر سکتے ہیں جبکہ نیٹو نے سمندر کی جانب سے طرابلس کا رابطہ دنیا سے پہلے ہی منقطع کر دیا ہے۔

باغیوں کے کمانڈر جمعہ داردیرہ کا کہنا ہے ’ہم قذافی کی جانب جانے والے تمام راستے بند کر رہے ہیں تاکہ وہ طرابلس میں محصور ہو کر رہ جائیں‘۔ تاہم طرابلس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ اب تک غیر واضح ہے کہ باغیوں نے کتنے علاقے پر قبضہ حاصل کرلیا ہے اور وہ یہ قبضہ کب تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ہالینڈ نے منجمد کیے گئے لیبیا کی حکومت کے چودہ کروڑ تیس لاکھ امریکی ڈالر پیر کو اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے عالمی صحت کو دے دیے ہیں۔ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان علاقوں میں طبی سہولیات اور سرجری کے آلات پر خرچ کی جائے گی جو لیبیا میں باغیوں کی دسترس میں ہیں۔

اُدھر اطلاعات ہیں کہ کرنل قذافی کے نمائندوں اور باغیوں کے رہنماؤں کے درمیان تیونس میں مذاکرات جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی عبداللہ الخطیب مذاکرات میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ایک ہوٹل کے کمرے میں یہ مذاکرات ہورہے ہیں۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے صرف اس حد تک تصدیق کی ہے کہ عبداللہ الخطیب تیونس میں حکام اور لیبیا کی چند شخصیات سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔

اسی بارے میں