برمنگھم:جنازے میں بیس ہزار شریک

برمنگھم میں نماز جنازہ تصویر کے کاپی رائٹ Other

برمنگھم میں جمعرات کو حالیہ فسادات کے دوران ہلاک ہونے والے تین پاکستانی نژاد برطانوی افراد کی نمازِ جنازہ میں تقریباً بیس ہزار افراد نے شرکت کی ہے۔

اکیس سالہ ہارون جہان، تیس سالہ شہزاد علی اور اکتیس سالہ عبدالمصور دس اگست کو اپنے علاقے میں املاک کی حفاظت کے لیے سڑک کے کنارے کھڑے تھے کہ ایک گاڑی نے انہیں کچل دیا۔

ان تینوں کے نماز جنازہ ونسن گرین کے سمرفیلڈ پارک میں ادا کی گئی اور بعد میں ان کی تدفین ہینڈزورتھ میں ہوئی۔

چار افراد کو ان کی ہلاکت کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

جنازے میں شریک ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے ان افراد کی ہلاکت کی خبر سن کر اتنا افسوس ہوا کہ جنازے میں شرکت کے لیے وہ سعودی عرب سے برطانیہ پہنچے۔

جنازے میں شریک بہت سےلوگوں نے ٹی شرٹیں پہنی ہوئی تھیں جن پر ہلاک ہونے والے تینوں نوجوانوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔

برمنگھم شہر کے ایک کونسلر ایوب خان نے بتایا کہ تینوں نوجوان مسلمانوں، غیر مسلموں، سیاہ فام سفید فام سب کی املاک کے تحفظ کے لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے شہر کے لوگوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے ان ہلاکتوں کے بعد صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا۔

’متحدہ برمنگھم‘ نامی تنظیم کے عاطف اقبال نےہارون جہان کے والد طارق جہان کی تعریف کی جنہوں نے ’غصہ نہیں دکھایا، شور شرابہ نہیں کیا، نفرت کا اظہار نہیں کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ طارق جہاں اپنے تحمل اور ضبط سے دوسروں کے لیے مثال بن گئے اور انہوں نے شہر کا امن خراب نہیں ہونے دیا۔

اسی بارے میں