اسد اقتدار چھوڑ دیں: عالمی رہنما

Image caption سات اگست کو اقوام متحدہ کے سربراہ نے شام کے صدر سے فون پر بات کی تھی

امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور یورپی رہنماؤں نے شام کے صدر بشارالاسد سے اپیل کی ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ صدر اسد اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں‘۔

ملک میں مظاہرین کے خلاف فوج کے استعمال کے بعدصدر اسد پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ ’شام میں مظاہرین کے خلاف تشدد انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے‘۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو اپنی رپورٹ میں تحقیق کاروں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو اس مسئلے کو جرائم کی عالمی عدالت میں اٹھانا چاہئیے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مارچ سے اب تک شام میں جاری احتجاج کو کچلنے کی حکومت کی کوششوں میں دو ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد نے اقوامِ متحدہ کے سربراہ بان کی مون کو بتایا ہے کہ مظاہرین کے خلاف حکومتی آپریشن بند کردیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ بان کی مون نے حال ہی میں شام کے صدر کو فون کیا اور ان سے مظاہرین کے خلاف جاری فوجی آپریشن اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے عمل کو فوری طور پر روکنے کا کہا تھا۔

یاد رہے کہ سات اگست کو اقوام متحدہ کے سربراہ نے شام کے صدر سے فون پر بات کی تھی۔

اپریل کے بعد سے شامی صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا۔

شام کے صدر بشار الاسد پر حالیہ دنوں مظاہرین کو کچلنے کے لیے فوج اور ٹینکوں کے استعمال کی عالمی سطح پر مذمت میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ دنوں شام کی صورتحال پر اپنے پہلے واضح پیغام میں شامی حکومت کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی تھی۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا تھا ’سیکرٹری جنرل نے شامی صدر بشارالاسد کو ٹیلی فون پر شام میں بڑھتے ہوئے تشدد اور گزشتہ دنوں ہلاکتوں میں اضافہ پر اپنے اور عالمی برادری کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا ہے‘۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق بان کی مون نے شام سے دوبارہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو داخل ہونے کی اجازت دیں۔ اس مطالبے پر ابھی تک شامی حکومت کا ردعمل سامنے نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں