افغانستان: برٹش کونسل پر حملہ، دس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خود کش حملہ آوروں نے برٹش کونسل کی عمارت میں داخل ہو کر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت افغان پولیس اہلکاروں کی ہے لیکن ان میں نیوزی لینڈ کا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

حملے کی تصاویر

کابل میں برطانوی سفیر نے کہا ہے کہ ایک طویل مقابلے کے بعد تمام حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں۔

شدت پسندوں نے اپنی کارروائی کا آغاز برٹش کونسل کی عمارت کے باہر دو خودکش حملوں سے کیا جس کے بعد بہت سارے اسلحے سے لیس حملہ آور عمارت میں داخل ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے کے بعد تین زور دار دھماکے سنائی دیے گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

اس سے پہلے کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ سنہ 1919 میں برطانوی تسلط سے افغانستان کی آزادی کی سالگرہ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب برطانوی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے ’ہم تصدیق کرتے ہیں کہ برٹش کونسل کی عمارت پر حملہ ہوا ہے۔ کابل میں برطانوی سفارتخانہ افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہے جو حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

افغان پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ افغانستان کے وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے ہوا اور دوسرا اس کے دس منٹ بعد۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ہمارے اندازے کے مطابق عمارت میں آٹھ سے نو خودکش حملہ آور موجود ہیں۔ ان کے پاس اتنا اسلحہ ہے کہ وہ پورے دن لڑائی لڑ سکتے ہیں۔‘

پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور بھاری مشین گن، راکٹ اور ہینڈ گرینیڈ سے لیس ہیں۔

کابل میں حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانوی فوج بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

حملے کے دوران برٹش کونسل کے کمپاؤنڈ کی ایک دیوار بھی دھماکے سےگر گئی۔

اسی بارے میں