مصری اہلکاروں کی ہلاکت، اسرائیل کا افسوس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ جاری ہے جبکہ مصری فورس تعینات ہے۔

مصر کی جانب سے اپنے سفارتکار کو واپس بلانے کے اقدام کے بعد اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے غزہ کی سرحد کے قریب مصر کے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں پانچ مصری پولیس اہلکاروں کی مبینہ ہلاکت کی تصدیق کیے بغیر ایہود بارک نے کہا کہ انہوں نے اس واقعہ کی مصر کی فوج کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ان شدت پسندوں کا تعاقب کررہی تھی جنہوں نے اسرائیل میں شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔

مصر کے ساتھ امن معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’دہشت گردوں پر حملے کے دوران مصری پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر اسرائیل کو افسوس ہے۔‘

انہوں نے وعدہ کیا کہ اسرائیل پہلے اپنے طور پر خود اس واقعے کی تحقیقات کرے گا اور پھر مشترکہ تحقیقات کے ذریعے مناسب نتائج اخذ کیے جا سکیں گے۔

ادھر قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر سینکڑوں لوگوں نے جمعہ اور ہفتہ کو مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرے کے دوران انہوں نے اسرائیلی جھنڈے کو نذرِ آتش کیا جبکہ اسرائیلی سفارتکار کو ملک بدر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مصر کے سرکاری ٹی وی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ مصر اپنے سفارتکار کو اسرائیل سے واپس بلارہا ہے اور اسرائیل یہ بتائے کہ اس نے مصری پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر کیوں ہلاک کیا۔

ملک کی کابینہ نے کہا ہے کہ مصر، اسرائیل کو سیاسی اور قانونی طور سے اس واقعہ کا ذمہ دار سمجھتا ہے جس کے لیے وہ معافی مانگے اور اسی لیے مصر اپنے سفارتکار کو واپس بلا رہا ہے۔

مصر نے جمعرات کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانی والی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل سے اپنے سفارتکار کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ دس برس میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مصر نے اپنے سفارتکار کو واپس بلایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر میں عوام کی جانب سے اسرائیلی سفارتکار کو ملک بدر کیے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے

مصر کی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ’اسرائیل میں مصر کے سفارتکار کو اس وقت تک واپس نہیں بھیجا جائے گا جب تک اسرائیلی حکام ہلاکتوں کی تفتیش کے نتائج کے بارے میں ہمیں آگاہ نہیں کرتے۔‘

قاہرہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ دونوں ممالک کے درمیان 1979 میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جنوبی اسرائیل میں مختلف گاڑیوں پر حملے ہوئے تھے جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب کچھ مسلح افراد نے ایک اسرائیلی بس پر فائرنگ کی۔ یہ بس مصر کی سرحد کے نزدیک سے گزر رہی تھی۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ پہلا حملہ ایک بس پر ہوا جس میں 392 افراد سوار تھے۔ یہ بس مسافروں کو جنوبی اسرائیلی قصبے بیر شیبا سے ساحلی سیاحتی شہر ایلات لیکر جا رہی تھی۔ ان حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں