شام:حکومتی کریک ڈاؤن جاری، چالیس ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption شام میں اب تک دو ہزار افراد کو ہلاک اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے

شام میں جمعے کی نماز کے بعد ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں پر فوج اور پولیس کی فائرنگ سے کم سے کم چالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی شہر درعا میں ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق مغربی شہر حمص میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں جہاں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات دھماکے اور فائرنگ جاری رہی۔

قبل ازیں جمعرات کو امریکہ اور کئی دوسرے بڑے مغربی ممالک نے شام کے صدر بشارالاسد سے اقتدار سے علیحدہ ہو جانے کا کہا تھا۔

اس سے پہلے شام کے صدر بشارالاسد نے اقوامِ متحدہ کو بتایا تھا کہ شہریوں کے خلاف پولیس اور فوج کی کارروائی روک دی گئی ہے۔

دوسری جانب روس نے امریکہ کی جانب سے صدر اسد کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک میں اصلاحات کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

شام کے اقوامِ متحدہ میں سفیر اسد جعفری نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے چند دیگر ارکان کے ساتھ مل کر شام کے خلاف سفارتی اور ہیومینیٹرین جنگ شروع کر رکھی ہے۔

دریں اثناء حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین شام کے خلاف مذید پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ برونیس ایشٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین شام کے کروڈ تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز پر کام کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق پانچ اداروں اور پندرہ افراد کو بھی پابندیوں کی ’بلیک لسٹ‘ میں شامل کیا جائے گا جس میں ان کے سفر اور اثاثوں کو منجمند کیا جانا شامل ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صدر اسد اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعے بات چیت میں اقوام متحدہ کا جائزہ مشن شام بھیجے جانے پر اتفاق ہوا۔

اقوام متحدہ گزشتہ کئی ہفتوں سے انسانی حقوق کے مبصرین کو شام بھیجنے کی کوششں میں تھا۔

اسی دوران اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے جمعرات کو کہا ہے کہ شام میں حکومتی فورسز کی طرف سے تشدد انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

ان تفتیش کاروں نے اپنی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے کہا ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی جرائم کی عدالت کو بھیج دیا جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میوئر کے مطابق صدر اسد کی جانب سے مظاہرین کے خلاف پر تشدد کاروائیاں ختم کرنے کے اعلان کے باوجود شام میں صورتِ حال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ہے اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے شام میں داخلے پر پابندی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کہنا ہے کہ شام میں عوام مظاہروں کو دبانے کے لیے اس سال مارچ سے لے کر اب تک سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں جن میں ٹینک، ہیلی کاپٹروں اور نشانچیوں کو بھی استعمال کیا گیا دو ہزار افراد کو ہلاک اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں