طرابلس کے ہوٹل سے آنکھوں دیکھا حال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیبیا میں باغی جتنی تیزی سے اور بلا رکاوٹ دارالحکومت طرابلس میں داخل ہوئے ہیں کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔

لیکن طرابلس میں ہونے والی پہلی شدید گولہ باری کے چوبیس گھنٹے بعد سنیچر کی رات ایسے آثار دکھائی دینے لگے تھے۔

سب سے پہلے کرنل قذافی کے سرکاری عہدے داروں کے بیوی بچوں نے شہر میں موجود فائیو سٹار ہوٹل ریکسوز چھوڑا۔ یہ وہ ہوٹل ہے جہاں ابتداء میں اس لڑائی کی کوریج کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کو رہائش فراہم کی گئی تھی۔

کچھ ہی مہینوں میں یہ حکومت کا ٹھکانہ بن گیا۔ ایک ایسی جگہ جہاں وہ حفاظت سے رہ سکتے تھے اور جہاں سے کرنل قذافی کے وزیرِ اطلاعات نیوز کانفرنس کیا کرتے تھے۔

اب لیبیا کی حکومت کے اعلی اہلکاروں کے رشتہ دار بھی جا رہے ہیں ان کی منزل نسبتًا کوئی محفوظ جگہ ہوگی۔

تبھی میں نے غور کیا کہ مہینوں تک یہاں صحافیوں کے لیے مترجم کا کام کرنے والے افراد بھی جا چکے ہیں جبکہ سرکاری ٹیلی وژن کے اہلکار جنہوں نے نیٹو کی بمباری میں اپنے صدر دفتر کی تباہی کے بعد یہیں سے کام جاری رکھا تھا وہ بھی اس ہوٹل کو چھوڑ چکے ہیں۔

یہاں لڑائی کے اشارے موصول ہو گئے تھے اور پھر اس ہوٹل کے باہر ایک خوفناک لڑائی چھڑ گئی جو قریب آتی جار ہی تھی۔ سنیچر کی شام تک گولہ باری اور دھماکوں کی آواز شہر میں گونجتی رہی۔ اور اب یہ ہماری جانب بڑھ رہی تھی۔

کئی گھنٹوں تک بھاری ہتھیار اس عمارت کو ہلاتے رہے۔ گولیاں سروں کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔

ہم بین الاقوامی میڈیا کے لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوگئے تاکہ یہ طے کیا جائے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئیے۔

ہم نے حفاظتی جیکٹس پہنیں اور وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ ساحل کی جانب کا راستہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی کشتی تھی جو ہمیں کہیں اور لے جا سکے۔

تبھی ہوٹل کا باورچی آیا اور پوچھا کہ کیا ہم رات کا کھانا کھائیں گے۔ہم نے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے ہی کھانا کھایا۔

چونکہ افطار کا وقت تھا اس لیے روزہ کھولنے کے لیے باہر خاموشی ہوگئی تاہم کچھ دیر بعد ہوٹل کے باہر دوبارہ دھماکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال شروع ہو گیا۔

قذافی کی حامی فورسز نے سڑک کے کنارے ایک چوکی بنا رکھی تھی۔ ہم باغیوں کے ایک ہدف میں پھنس چکے تھے۔

اسی دوران وزیرِ اطلاعات موسی ابراہیم نے اپنی آخری نیوز کانفرنس کی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’ نیٹو ہمارے ملک کو تباہ کر رہا ہے‘۔ وہ فائر بندی کی اپیل کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بھاری جانی نقصان ہو جائے گا۔

ہوٹل کی لابی میں ایک نوجوان فوجی میڈیا کے ایک شخص پر چلا رہا تھا۔ وہ اس پر اندر کی معلومات باغیوں کو دینے کا الزام لگا رہا تھا۔ ہم اس شخص اور اس کی AK-47 سے دور ہو گئے۔

ہوٹل کے ایک دوسرے حصے میں خاموش طبع اور نرم خُو ڈاکٹر اگلوئیلا جو لیبیا کی حکومت میں غیر ملکی میڈیا کے انچارج تھے میرے پاس سے گزرے، ان کے ہاتھ میں ایک بندوق تھی۔

گذشتہ ہفتے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ تیار ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو اپنے ملک کے تحفظ کے لیے سامنے جا کر لڑیں گے۔ تب میں نے سوچا بہت دیر ہو چکی ہے۔

کیا جس کا بہت شور ہو رہا تھا وہ خاتمہ قریب ہے؟

اتوار کے روز موسی ابراہیم نے مجھے بتایا تھا کہ پینسٹھ ہزار پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوجی جو کرنل قذافی کے وفادار ہیں دارالحکومت طرابلس میں اس کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔

کیا باغی کسی جال میں پھنس گئے ہیں؟ شاید جب وہ شہر میں داخل ہوں ان پر ہر سمت سے فائر کھول دیا جائے۔ کرنل قذافی کی حامی فوج یہ حربہ پہلے بھی استعمال کر چکی ہے۔

دھیرے دھیرے صورتحال واضح ہو گئی۔ وہ سبز چوک جہاں میں گذشتہ ہفتے میں کرنل قذافی کے حامیوں کے ساتھ کھڑا تھا جو یہ عہد کر رہے تھے کہ دارالحکومت کبھی، کبھی بھی نہیں جھکے گا، اب مخالفین کے قبضے میں تھا۔

کرنل قذافی کا بیٹاسیف اسلام گرفتار ہو چکا ہے۔طرابلس کے بڑے علاقوں میں حزبِ مخالف کی چوکیاں مضبوط کر لی گئی ہیں۔کرنل قذافی کا دار الحکومت ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔

ابھی جس وقت میں یہ لکھ رہا ہوں لڑائی جاری ہے۔ ریکسوز کے کے باہر ہم اب بھی نہیں جانتے کہ سڑ کیں محفوظـ ہیں یا نہیں۔ ہم اب بھی یہاں سے نہیں نکل سکتے۔

ارد گرد سے بھی گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہیں ہیں لیکن یہ جشن کے لیے نہیں، وہاں اب بھی لڑائی ہو رہی ہے۔

شہر کے کئی رہائشی اپنے گھروں میں دبکے بیٹے ہیں۔ ان میں صرف وہی لوگ نہیں جو کل تک کرنل قذافی کا سبز جھنڈا فخر سے لہرا رہے تھے بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے دروازے کے باہر ہونے والی لڑائی کی وجہ سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

کچھ لوگ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ قبیلوں کے درمیان پایا جانے والے اختلاف اب حزب مخالف میں سامنے آئے گا جو اقتدار کی پر امن منتقلی کو نقصان دہ ہے۔

اب بھی ممکن ہے کہ چار دہائیوں تک اقتدارمیں رہنے والے کرنل قدافی لوگوں کو سزا دینے اور ان پر ظلم کرنے کے لیے جوابی حملہ کریں۔

لیکن فی الحال یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت تو ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ ایک اور غیر مقبول عرب حکومت عرب مظاہروں کی لہر کا شکار ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں