قذافی کے بعد کون ؟

باغی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption باغیوں کے بارے میں یہی تاثر ہے کہ وہ نظریاتی، سیاسی اور قبائلی اختلافات کا شکار ہیں

کرنل قذافی کے جانے کے بعد اقتدار کس کے ہاتھ آئے گا؟ کیا باغی اتنے منظم اور باصلاحیت ہیں کہ جنگ زدہ ملک کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکیں گے کیا آزاد انتخابات اور ملک کے لیے نیا آئین بھی ان کی ترجیحات ہوں گی۔ تو ایسے میں وہ کون لوگ ہیں جو اقتدار سنبھالنے اور ان چیلنجوں سے نمٹنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لیں گے۔

ماہرین کے نزدیک فی الحال باغیوں کے بارے میں یہی تاثر ہے کہ وہ نظریاتی، سیاسی اور قبائلی اختلافات کا شکار ہیں۔

بغاوت کے چھ ماہ کے دوران باغیوں نے ملک کے جن مشرقی حصوں پر قبضہ کیا وہاں عبوری انتظامیہ قائم کی گئی ہے۔ باغیوں کی عبوری قومی کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق وہ اکتیس اراکین پر مشتمل ہے۔ بعض اراکین کے نام ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ ادیبہ، کفرا، غہت اور مصراتہ سے آئے اراکین نے فی الحال اپنی شناخت سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پوشیدہ رکھی ہوئی ہے۔ کونسل کی پانچ نشستیں عورتوں جبکہ اتنی ہی نوجوانوں کے لیے رکھی گئی ہیں۔

مصطفی محمد عبدالجلیل

کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق عبوری انتظامیہ کے سربراہ یعنی چیئرمین مصطفی محمد عبدالجلیل ہیں۔ مصطفی اس سال لیبیا میں عوامی احتجاج کے آغاز کے بعد فروری میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور وزیر انصاف احتجاجا مستعفی ہوگئے تھے۔

مشرقی شہر بیدا میں انیس سو باون میں پیدا ہونے والے مصطفی محمد عبدالجلیل نے لیبیا کی یونیورسٹی سے شریعت اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بحیثیت جج مصطفی حکومت مخالف فیصلے کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ وہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے عدالتی حکم کے باوجود ان کی اسیری کے مخالف بھی تھے۔

عبدالحفیظ گھوگا، وائس چیرمین/ ترجمان

مسٹر گھوگا بن غازی میں مقیم سماجی اور حقوق انسانی کے کارکن ہیں۔ انہیں فروری میں عوامی احتجاج کے آغاز کے فورا بعد گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن چند روز بعد رہا کر دیا گیا۔ وہ لیبیا کی بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو عبوری کونسل کا ترجمان ظاہر کرنے پر شہرت ملی۔ ان کے مقابلے میں مصطفی عبدالجلیل بھی ترجمان ہونے کا دعوی کر رہے تھے۔ انہیں بعد میں وائس چیئرمین اور ترجمان مقرر کر دیا گیا۔

عمر الحریری، عسکری امور

مسٹر حریری ان فوجی افسروں میں سے ایک تھے جو انیس سو انہتر کو کرنل قذافی کو اقتدار میں لانے والی بغاوت میں شامل تھے۔ سابق جنرل کو اختلافات کے بعد قید کر دیا گیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حریری کی تعیناتی سے باغیوں کے درمیان عسکری رابطے بہتر ہوں گے۔

حریری مغربی لیبیا کے فرجان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں کرنل قذافی کے مضبوط گڑھ سریت کے اردگرد حمایت حاصل ہے۔ ایک انٹرویو میں حریری کا کہنا تھا کہ انہوں نے کرنل قذافی کو جوانی میں گاڑی چلانا سیکھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ انیس سو انہتر کی بغاوت کے وقت باغیوں کے پاس واضح منصوبہ نہیں تھا اور وہ یہ غلطی اب نہیں دہرانا چاہتے ہیں۔

محمود جبریل، امور خارجہ

بغاوت سے قبل محمود جبریل دیگر دانشوروں کے ساتھ ’لیبیا ویژن‘ نامی منصوبے سے منسلک تھے۔ اس منصوبے کا ہدف جمہوری ریاست کا قیام تھا۔ وہ کونسل کی بحران کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں۔ انیس سو باون میں پیدا ہونے والے محمود پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز جبکہ فیصلہ سازی کے مضمون میں امریکی یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔وہ امریکہ میں ہی تدریسی شعبے سے بھی منسلک رہے۔ انہوں نے قیادت پر کئی کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔

علی عیساوی، امور خارجہ

مسلار عیساوی اکیس فروری کو بھارت کے سفیر کے طور پر مستعفی ہوگئے تھے۔ علی عیساوی نے رومانیہ سے نجکاری کے موضوع پر ڈاکریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ انہیں دو ہزار چھ میں وزیر خزانہ و نجکاری مقرر کیا گیا۔ سال دو ہزار نو میں کابینہ میں ردوبدل کے بعد انہیں کوئی وزارت نہیں ملی۔

احمدالزبیر احمد السنوسی، سیاسی قیدی

احمد لیبیا کے سب سے لمبے عرصے تک رہنے والے ضمیر کے قیدی تھے۔ کرنل قذافی کے خلاف انیس سو ستر میں بغاوت سازش کے الزام میں اکتیس برس تک جیل میں رہے۔ انہیں اکثر قید تنہائی میں رکھا جاتا تھا۔ انہیں اگست دو ہزار ایک میں رہائی نصیب ہوئی۔

فتحی محمد باجا، بن غازی

امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے والے فتحی بن غازی یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ وہ شہری کونسل کے بھی رکن تھے۔ ان پر خفیہ اداروں نے حکومت مخالف مضامین لکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اٹھاون سالہ فتحی کو یقین ہے کہ آئندہ نسلیں لیبیا میں اصل جمہوریت دیکھ پائیں گی۔ انہوں نے انقلاب کے لیے منشور بھی لکھا ہے جس کے دو اہم نکات قومی اتحاد اور جمہوریت ہیں۔

فتحی تربل صلوا، نوجوان

فتحی نے عوامی احتجاج کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔ نوجوان وکیل نے بن غازی میں پرامن احتجاج منعقد کیا تھا۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا لیکن جب مظاہرین ان کی رہائی کے لیے تھانے پہنچے تو ان پر پولیس نے گولی چلا دی۔ اس کے بعد بن غازی کے بعد عوامی احتجاج طرابلس بھی پہنچ گیا۔

صلوا الدغیلی، امور خواتین

بن غازی سے تعلق رکھنے والی وکیل صلوا مشرقی لیبیا کے ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے چچا کو حزب مخالف کی سرگرمیوں کی وجہ سے قید کیا گیا تھا۔ انہوں نے بن غازی بار ایسوسی ایشن میں عوامی احتجاج سے قبل اہم کردار ادا کیا۔ بار کے اراکین اصلاحات اور بدعوانی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔

عبوری کونسل کے دیگر اراکین میں قانون کے پروفیسر عبداللہ موسی المیحوب، بن غازی کے تاجر احمد ابد ربوہ الابر، عثمان سلیمان اور اشور حامد براشد شامل ہیں۔

اسی بارے میں