آخری وقت اشاعت:  پير 22 اگست 2011 ,‭ 08:44 GMT 13:44 PST

طرابلس:قذافی کی رہائش گاہ کے نزدیک شدید لڑائی

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

لیبیا کے درالحکومت طرابلس میں کرنل معمر قذافی کی رہائش گاہ کے قرب و جوار سمیت متعدد مقامات پر سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جبکہ کرنل قذافی کے جانشین سمجھے جانے والے بیٹے سیف الاسلام کے بعد ان کے دوسرے بیٹے کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کرنل قذافی کا اتہ پتہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم خیال ہے کہ وہ اسی احاطے میں کہیں موجود ہیں۔

باغی رہنما مصطفیٰ عبدالجلیل نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کو کرنل قذافی کے اتہ پتہ کا کچھ معلوم نہیں ہے۔ کرنل قذافی کے سابق نائب رہنما عبد السلام جلود نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کے اب قذافی خودکشی یا حوالگی دینے کا راستہ اختیار کریں گے۔ عبدالجلود کو اٹلی نے سیاسی پناہ دے دی ہے، وہ پچھلے ہفتے طرابلس چھوڑ کر باغی علاقوں میں چلے گئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگرچہ باغی طرابلس کے اسّی فیصد علاقے پر قبضے کا دعوٰی کر رہے ہیں تاہم شہر میں کئی مقامات پر محاذ کھلے ہوئے ہیں۔

ادھر جرائم کی عالمی عدالت کرنل قذافی کے بیٹے سیف السلام کی حوالگی کے سلسلے میں باغیوں سے بات چیت کر رہی ہے۔سیف السلام کو عالمی عدالت میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا سامنا ہے اور عالمی عدالت سے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔

سیف السلام کو باغیوں نے گزشتہ رات طرابلس پر چڑھائی کے وقت گرفتار کیا تھا۔ کرنل قذافی کے دوسرے بیٹے محمد بھی باغیوں کی حراست میں ہیں۔

کلِک طرابلس کے ہوٹل سے آنکھوں دیکھا حال

سینکڑوں باغی اتوار کو دارالحکومت کے وسط میں واقع سبز چوک تک پہنچ گئے تھے جس کے بعد رات بھر اس علاقے میں جشن کا سا سماں رہا۔

بن غازی میں جشن

لیبیا کے مشرقی شہر میں باغیوں کی کامیابی پر جشن منایا جا رہا ہے

یہ وہی سبز چوک ہے جہاں ہر رات کو کرنل قذافی کی حمایت میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ اس چوک کا پرانا نام شہداء چوک بحال کر دیا جائے گا۔

میں آپ کو خبردار کر رہا ہوں کہ طرابلس اور اس کے گردونواح میں مختلف مقامات پر مزاحمت ہو رہی ہے۔

مصطفٰی محمد عبدالجلیل

اس دوران باغیوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور وہ کرنل قذافی کی تصاویر کو روندتے رہے۔ شہر میں بہت سے لوگ پرچم لہراتے ہوئے باغیوں کے استقبال کے لیے سڑکوں پر نکلے۔

کرنل قذافی کی حامی فوج اب بھی شہر کے کچھ حصوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے جن میں کرنل قذافی کے باب العزیزیہ کمپاؤنڈ کے علاوہ وہ ہوٹل بھی شامل ہے جہاں غیر ملکی صحافی قیام پذیر ہیں۔ باغیوں کے ایک ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا ہے کہ اب بھی طرابلس کے پندرہ سے بیس فیصد علاقے کا کنٹرول کرنل قذافی کی حامی افواج کے پاس ہے۔

جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے پراسیکیوٹر نے کرنل قذافی کے بیٹے اور جانشین سیف السلام کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے جبکہ کرنل قذافی کے دوسرے بیٹے محمد نے صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ان کےگھر کو باغیوں نے گھیر لیا ہے اور وہ اپنے گھر پر نظر بند ہیں۔

دارالحکومت میں داخل ہونے کے بعد باغیوں کو حکومتی فوجیوں کی طرف سے زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم اتوار اور پیر کی درمیانی شب طرابلس کے کچھ علاقوں میں لڑائی جاری رہی۔

لیبیا میں باغیوں کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ مصطفٰی محمد عبدالجلیل نے پیر کی صبح کہا ہے کہ ’میں آپ کو خبردار کر رہا ہوں کہ طرابلس اور اس کے گردونواح میں مختلف مقامات پر مزاحمت ہو رہی ہے‘۔

طرابلس کے سبز چوک پر باغیوں کا قبضہ ہے

لیبیا کی حکومت کے ایک ترجمان موسیٰ ابراہیم نے اخباری کانفرنس کو بتایا کہ اتوار کی دوپہر کے بعد سے شہر میں تیرہ سو لوگ ہلاک اور پندرہ سو زخمی ہو چکے ہیں۔

طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد کا کہنا ہے کہ مشرقی طرابلس میں ان کے علاقے میں صبح کا آغاز مساجد سے قذافی دور سے پہلے بادشاہت کے زمانے کے قومی ترانے پڑھے جانے سے ہوا۔ ان کے مطابق شہر میں یہ احساس عوام ہے کہ اب اس مہم کا خاتمہ قریب ہے اور باغیوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔

عالمی ردعمل

دریں اثناء عالمی سطح پر ایک بار پھر کرنل قذافی سے اقتدار سےفوری طور پر الگ ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ امریکہ نے کہا کہ طرابلس پر حملہ جاری ہے اور لیبیا کے حکمران کے دن گنے جا چکے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معمر قذافی کو اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ اب ملک پر ان کا کنٹرول نہیں ہے اور انہیں اقتدار ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہی ہوگا۔

چین نے کہا ہے کہ وہ لیبیا کی عوام کے اس فیصلے کا احترام کرتا ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ طرابلس میں حکومت کے تبادلے کے معاملے میں غیر جانبدار رہے گا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا اب طرابلس میں سکیورٹی کی بحالی میں مدد ان کی خاص ترجیح ہوگی۔ انہوں نے لیبیا میں باغیوں سے اپیل کی کہ وہ انتقامی کارروائیاں نہ کریں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے گریز کریں۔

اس کے علاوہ جنوبی افریقہ نے ان افواہوں کی تردید کر دی ہے کہ اس نے کرنل قذافی کو نکالنے کے لیے کوئی طیارہ بھیجا ہے۔

لیبیا کے حکمران کے دن گنے جا چکے ہیں۔معمر قذافی کو اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ اب ملک پر ان کا کنٹرول نہیں ہے اور انہیں اقتدار ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہی ہوگا۔

براک اوباما

نیٹو کی ایک ترجمان نے بھی کہا ہے کہ کرنل قدافی کی حکومت گر رہی ہے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی کا کہنا ہے کہ لیبیا فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے جبکہ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کا کھیل ختم ہونے والا ہے اور وہ اقتدار چھوڑ کر عوام کی تکالیف کو کم کر دیں۔

بن غازی میں جسن

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں جو باغیوں کا گڑھ ہے لوگ اس امید پر جشن منا رہے ہیں کہ کرنل قذافی کے اقتدار کا خاتمہ ہونے والا ہے۔

ادھر کرنل قذافی نے لیبیا کے قبائلیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طرابلس میں باغیوں کا مقابلہ کریں۔ اتوار کے روز ریڈیو پر اپنے دوسرے خطاب میں کرنل قذافی نے طرابلس کے نواح میں واقع شہروں کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ و ہ دارالحکومت کے دفاع کو آئیں۔

انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر فرانسیسی غاصبین اور برطانوی سامراج واپس آ جائے گا۔ اس سے قبل اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ طرابلس نہیں چھوڑیں گے اور آخر تک یہیں رہیں گے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔