افغان فورسز عوام کی نظر میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مہترلام کا علاقہ اب مکمل طور پر افغان قومی فوج اور پولیس کے ہاتھ میں ہے۔

افغانستان میں نیٹو افواج کی جانب سے افغان فورسز کو اختیارات کی منتقلی کا عمل کوئی ایک ماہ سے جاری ہے۔

بی بی سی کے بلال سروری نے اختیارات کی منتقلی کا جائزہ لینے کے لیے مہترلام کا رختِ سفر باندھا جو مشرقی صوبے لقمان کا دارالخلافہ ہے۔ یہ پہلا علاقہ ہے جہاں نیٹو افواج نے افغان فورسز کو اختیارات کی منتقلی کا عمل مکمل کرلیا ہے۔

مہترلام کا علاقہ اب مکمل طور پر افغان قومی فوج اور پولیس کے ہاتھ میں ہے۔ تاہم وہاں امن برقرار رکھنا ایک کٹھن معاملہ ہے کیونکہ یہ علاقہ اب بھی تشدد اور قتل و غارت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

وہاں میری آمد سے ایک روز قبل ہی مسلح شدت پسندوں نے شہر کے وسط میں افغان فوج اور پولیس کے مشترکہ گشت پر حملہ کردیا تھا۔ افغان سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں راکٹوں، گرینیڈ اور مشین گن سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور یہ جھڑپ کوئی پون گھنٹہ جاری رہی اور پھر شدت پسند رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غائب ہوگئے۔

اس جھڑپ میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن اس سے مقامی آبادی میں امن کے قیام کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔

ایک مقامی شہری نے بتایا ’جس جگہ یہ جھڑپ ہوئی میرا مکان وہاں سے قریب ہے اور اس وقت گولیوں کی بارش ہورہی تھی۔ ہم اتنے خوفزدہ ہوئے کہ اگلے دن بھی ہم نے گھر سے باہر قدم نہیں رکھا۔‘

Image caption نیٹو افواج اپنے اختیارات افغان فوج اور پولیس کو مکمل طور پر منتقل کردیں گی۔

ایک اور شہری نے کہا کہ مہترلام پر حملہ کر کے شدت پسند یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ اپنی مرضی سے جب چاہیں اُن ساتوں علاقوں میں حملہ کر سکتے ہیں جو نیٹو نے افغان فورسز کے حوالے کردیے ہیں۔

مہترلام کو کابل کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے اورگزشتہ ماہ جغرافیائی اہمیت کے حامل اس شہر میں شدت پسندوں نے ایک جج، جیل کے محافظ اور ایک مقامی سرکاری افسر کو ہلاک کیا تھا۔

مہترلام میں اختیارات کی منتقلی کے طویل عمل کو پہلے قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور یہ عمل سنہ دو ہزار چودہ تک مکمل ہوگا جس میں نیٹو افواج اپنے اختیارات افغان فوج اور پولیس کو مکمل طور پر منتقل کردیں گی۔

تاہم مہترلام میں ہونے والی پیش رفت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اختیارات کی منتقلی اتنی آسان نہیں ہوگی۔

علاقے کے ایک حجام شاہ گل نے کہا ’لوگ خوف میں زندگی گزارتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب سکیورٹی فورسز خود اپنا دفاع نہیں کر سکتیں تو وہ لوگوں کو کیسے محفوظ رکھیں گی۔‘

پہاڑوں سے گھرے اس صوبے کے کئی علاقوں میں طالبان یا سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی ملیشیا حزبِ اسلامی کافی متحرک ہے۔

صوبۂ لقمان کے مشرق میں صوبۂ نورستان اور کنڑ واقع ہیں۔

افغان انٹیلی جنس کے ایک افسر نے کہا ’شدت پسند نورستان اور کنڑ سے آتے ہیں حملہ کرتے ہیں اور پھر واپس وہیں فرار ہو جاتے ہیں۔

’افغان فورسز کے اختیار میں آنے والے علاقوں کو نشانہ بنا کر شدت پسند اور ان کے حواری یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ افغان فورسز اپنے عوام کی حفاظت کی اہل نہیں ہیں۔‘

ان علاقوں میں بدعنوانی کی وباء بھی شدت پسندوں کے لیے مددگار ہوتی ہے۔ لوگ یہاں کی مقامی حکومت سے بہت بیزار ہیں اور اسی لیے وہ شدت پسندوں کو مدد فراہم کرنا کوئی عار نہیں سمجھتے۔ بسا اوقات تو وہ ان کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان میں شامل بھی ہوجاتے ہیں۔

مہترلام کے بازاروں میں بیشتر افراد نے عدالتی نظام میں بدعنوانی، کمزور حکمرانی، اور قبائلی سردراروں کی نجی فوج کی شکایت کی۔

مقامی ٹیچر شاہ جہاں کا کہنا ہے ’ہمیں مغرب سے بہت زیادہ سہارے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بہتر ہتھیار اور گاڑیاں مطلوب ہیں جیسے امریکیوں کے پاس ہیں وہ ہماری پولیس کے پاس بھی ہونی چاہیے۔‘

’بلاشبہ طالبان کے پاس بہتر ہتھیار ہیں اور وہ زیادہ منظم ہیں لیکن حکومت کیا کرے، لوگ سرکاری مشنری پر یقین ہی نہیں کرتے۔‘

Image caption میرے ضلع میں موسیقی پر پابندی ہے۔ طالبان ٹیکس وصول کرتے ہیں: ڈاکٹر نادر شاہ

تاہم صوبۂ لقمان کے گورنر اقبال عزیزی نے اس سوچ کو رد کردیا۔

’بعض اوقات ہماری کامرانیوں کا غلط اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ہم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ ہماری فورسز نے امریکہ کی خصوصی فورسرز کی طرح تربیت حاصل کی ہے اور وہ اپنے طور پر کارروائی کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔‘

تاہم ایسے شہری ان کے دفتر سے زیادہ دور نہیں جو حالات سے پریشان ہوں۔

ایک مقامی تاجر کا کہنا ہے کہ جب سے مہترلام کا کنٹرول افغان فورسز نے سنبھالا ہے پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

’ہم پراعتماد طریقے سے سرمایہ کاری نہیں کر سکتے۔ پورا ضلع ایک طرف، شہر میں مسلح لوٹ مار عام ہے۔‘

لقمان کے اضلاع میں کام کرنے والے ڈاکٹر نادر شاہ نے متعدد افراد کے خیالات کو سمیٹتے ہوئے کہا ’یہاں کئی حکومتیں کام کررہی ہیں۔‘

’طالبان اور ارباکیوں (قبائلی فوج) کے برعکس افغان حکومت زیادہ تر اپنے دفاتر تک محبوس ہے۔ میرے ضلع میں موسیقی پر پابندی ہے۔ طالبان ٹیکس وصول کرتے ہیں جبکہ ارباکی لوگوں کو ہراساں کرتے ہیں۔‘

حال ہی میں حکام نے صوبے میں ایک نیا ضلع قائم کیا ہے جس کا نام بدپخ رکھا گیا ہے۔ بدپخ کے ایک ضعیف العمر رہائشی نے کہا کہ ضلعی گورنر اور دیگر اہلکار وہاں نہیں جا سکتے۔

افغانستان میں کئی صوبوں کی طرح صوبۂ لقمان میں بھی مرکزی حکومت کی حاکمیت دکھائی نہیں دیتی۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور کا کہنا ہے ’صوبائی دارالخلافہ کو اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں پر شرپسند گاڑیوں کو روک لیتے ہیں۔ اگر آپ موسیقی سنتے ہوئے پکڑے گئے تو وہ آپ کو مارتے ہیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوگیا کہ آپ پولیس یا فوج کے لیے کام کرتے ہیں تو پھر تو وہ آپ کو مار ہی ڈالتے ہیں۔‘

’میرے دو بیٹے فوج میں ہیں۔ طالبان نے گاؤں کے مولوی کے ذریعے دھمکیاں دیں اور جب میں نے کوئی توجہ نہیں دی تو انہوں نے میرے گھر پر گرینیڈ پھینکا اور مجھے اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا۔‘

مہترلام میں ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ لاقانونیت پر قابو پانے کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافے کے ضرورت ہے۔

’میرے پاس اتنی پولیس فورس نہیں کہ میں بہت سارے علاقے کو محفوظ بنا سکوں لہذٰا ایک خلاء موجود ہے۔ تاہم ہم نئی بھرتیاں کررہے ہیں اور انہیں تربیت بھی فراہم کررہے ہیں۔ اس مسئلہ پر قابو پانے میں ہمیں وقت لگے گا۔‘

لیکن یہاں ہر شخص ایسی امید افزاء بات نہیں کرتا۔

اسی بارے میں