’القاعدہ کا سینیئر رہنما ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق القاعدہ کے سینیئر رہنما عطیہ عبدالرحمان پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان ایجنسی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ القاعدہ آپریشنز کے مبینہ سربراہ عطیہ عبدالرحمان رواں ماہ کی بائیس تاریخ کو پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان ایجنسی میں ہلاک ہوئے۔

’القاعدہ کے رہنماؤں کی نشاندہی ہو گئی ہے‘

اطلاعات کے مطابق امریکہ کو پاکستان اور افغانستان میں انتہائی مطلوب پانچ شدت پسندوں میں سے عطیہ عبدالرحمان دوسرے نمبر پر تھے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار نے لیبیائی شہری اور القاعدہ کے رہنما کی ہلاکت کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا ہے لیکن عطیہ عبدالرحمان اسی دن ہلاک ہوئے جس دن وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے کی اطلاعات ملی تھیں۔

عطیہ عبدالرحمان کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا انتہائی قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔

اسامہ بن لادن دو مئی کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

تقریباً تیس سالہ عطیہ عبدالرحمان اسی کی دہائی میں اسامہ بن لادن کے ساتھ شامل ہوئے تھے اور القاعدہ میں ان کی وجہ شہرت اسلامی سکالر اور دھماکہ خیز مواد کے ماہر کے طور پر تھی۔

رواں ماہ اگست میں ہی امریکہ کے نئے وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان، یمن اور دوسری جگہوں میں موجود القاعدہ کے مرکزی رہنماؤں کا پتہ چلا لیا گیا ہے اور ان کے خاتمے سے سے القاعدہ دہشت گردی کے کسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’القاعدہ کی مکمل شکست ہماری دسترس میں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اسامہ بن لادن تک پہنچ گئے اور پھر ہم نے پاکستان اور یمن میں القاعدہ کے رہنماؤں کی نشاندہی کر لی ہے۔‘

اسی بارے میں