بغداد: مسجد پر خودکش حملہ، اٹھائیس ہلاک

فائل فوٹو، سال دو ہزار تین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خودکش حملے کا نشانہ بننے والی مسجد بغداد میں سنی مسلک کے مسلمانوں کی سب سے بڑی مسجد ہے( فائل فوٹو)

عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکام کے مطابق ایک مسجد کے اندر خودکش حملے میں اٹھائیس افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق حملہ آور نے مغربی بغداد میں واقع سنی مسلمانوں کی مسجد کے اندر خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب وہاں پر نماز ادا کی جا رہی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ خودکش حملے میں ایک رکن پارلیمان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اتوار کو ہونے والے اس خودکش حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

بغداد میں سنی مسلک کے مسلمانوں کی یہ سب سے بڑی مسجد ہے اور یہاں پر بغداد میں سنی مسلمانوں کے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے کا مرکزی دفتر بھی تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ادارے کے ایک ترجمان قتیبا ال فلاحی نے کہا ہے کہ’خودکش حملہ آور نے مسجد کے مرکزی حاطے میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

اس سے پہلے جمعہ کو عراق میں تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

عراق میں حالیہ دنوں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے تاہم ان کی شدت سال دو ہزار چھ اور سات کے مقابلے میں کم ہے۔

اسی بارے میں