سمندری طوفان اب بھی خطرناک ہے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طوفان کے اثرات دیر تک رہیں گے اور حالات معمول پر آتے چند ہفتے یا اس سے زیادہ بھی لگ سکتے ہیں: صدر اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ طوفان آئرین کا رخ شمال میں کینیڈا کی جانب ہو جانے کے باوجود اب بھی سیلاب کے آنے اور بجلی منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ اگرچہ طوفان اتنی شدت سے نہیں آیا لیکن دریاؤں میں پانی کاچڑھاؤ زیادہ ہے جس کے باعث بندوں کے ٹوٹ جانے کا خطرہ ہے۔

امریکہ میں طوفان ’آئرین‘ کا اثر: تصاویر

’آئرین‘ امریکی ساحلوں سے ٹکرا گیا

واضح رہے کہ امریکہ کے مشرقی ساحل سمندری طوفان ’آئرین‘ امریکی ریاست شمالی کیرولینا کے بعد اتوار کو نیویارک کے ساحل سے ٹکرا گیا تھا اور شہر کے مختلف علاقوں سے تیز ہواؤں، موسلادھار بارش اور آسمانی بجلی کڑکنے کی اطلاعات ملیں تھیں۔

اطلاعات کے مطابق اس طوفان میں اب تک کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور امریکی ریاستوں نیو یارک، نیو جرسی اور کنیکٹیکٹ میں کل ملا کر تیس لاکھ افراد کے گھروں میں بجلی منقطع ہو گئی ہے۔

صدر اوباما نے عوام سے خطاب میں کہا ’بیشتر امریکیوں کے لیے اب بھی خطرہ ٹلا نہیں ہے اور بجلی کے منقطع ہو جانے اور سیلاب کے آنے کا خدشہ ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں چڑھتے دریاؤں کے بند ٹوٹ جانے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ لوگ یہ سمجھ جائیں کہ یہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ امدادی ٹیموں کا کام چلتا رہے گا اور متاثرہ علاقوں میں امریکی شہریوں سے میری درخواست ہے کہ وہ حکومت اور مقامی حکام کا کہنا مانتے رہیں۔‘

صدر اوباما نے مزید کہا ’اس طوفان کے اثرات دیر تک رہیں گے اور حالات معمول پر آتے چند ہفتے یا اس سے زیادہ بھی لگ سکتے ہیں۔‘

نیو یارک میں تین لاکھ متاثرین جن کو طوفان کے باعث دیگر جگہوں پر منتقل کر دیا گیا تھا، اپنے گھروں کو واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔

نیویارک سمیت امریکہ کے شمال مشرق میں سمندری طوفانوں کی تاریخ نہ ہونے کے برابر ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس علاقے میں آخری سمندری طوفان اٹھارہ سو اسّی کی دہائی میں آیا تھا جس میں چھ سو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اور شہری سہولیات اور پیشگی تنبیہی سسٹم مفقود تھے اور اسی لیے اتنی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں