سری لنکا میں پراسرار درانداز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جن عورتوں پر یہ حملے کیے جاتے ہیں ان کا تعلق یا تو مسلمان یا پھر تمل فرقے سے ہوتا ہے

چند راتیں قبل سری لنکا کے مغربی ساحلی ضلع پٹالم کی عمر رسیدہ خاتون ٹوآن نونا صالح فارس نے اپنے گھر کے باہر ایک سرسراہٹ سنی اور انھیں کسی کا سایہ دکھائی دیا۔

ان کے بقول ’وہ گوریلا نما تھا اور سر سے پاؤں تک کالا سیاہ تھا۔ میں نہ اس کے ہاتھ صحیح سے دیکھ پائی نہ ہی اس کی صورت۔‘

لیکن ٹوآن نونا صالح فارس کا کہنا ہے کہ اِس مشکوک شخص کا تعلق سری لنکا کے بدچلن گروہ ’گریس ڈیولز‘ سے تھا۔

پچھلے کچھ ہفتوں سے ملک کے بیشتر دیہات، سیاہ راتوں میں عورتوں پر حملہ کرنے والے آوارہ افراد سے لرزاں ہیں۔

تاہم میڈیا اور عوام نے ان حملہ آوروں کو ’گریس ڈیولز‘ کا نام دینے میں دیر نہیں لگائی یعنی ایسے شیطان صفت انسان جو اپنے جسم پر چکنا تیل مل کر راتوں کو عورتوں پر حملے کرنے کے لیے نکلتے ہیں تاکہ وہ کسی کے ہاتھ نہ آ سکیں۔

لیکن ان حملوں کے ردِ عمل میں لوگ مارے اور حراست میں لیے جا رہے ہیں اور صورتحال اس قدر تشویش ناک ہو گئی ہے کہ ٹینک بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

کیا سچ ہے کیا نہیں یہ کسے معلوم لیکن مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز یہ سب خود کرا رہی ہیں اور گریس ڈیولز ان کی اپنی ’ایجاد‘ ہیں۔

اگرچہ سکیورٹی فورسز نے اس الزام کی تردید کی ہے لیکن تشدد جاری ہے۔

یہ ایک نہایت ہی عجیب و غریب صورتحال ہے اور ابھی تک کوئی یہ نہیں معلوم کر سکا کہ ان حملوں میں کون ملوث ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ جن عورتوں پر یہ حملے کیے جاتے ہیں ان کا تعلق یا تو مسلمان یا پھر تمل فرقے سے ہوتا ہے حالانکہ ان علاقوں میں اکثریت سنہالیوں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان حملوں کے ردِ عمل میں لوگ مارے اور حراست میں لیے جا رہے ہیں

ٹوآن نونا صالح فارس جب ہمیں اپنے گھر پر ملیں تو وہ سہمی ہوئی تھیں اور کیوں نہ ہوتیں کہ پٹالم میں پچھلے کچھ دنوں میں ایک پولیس اہلکار سمیت کئی گاؤں والے مارے جا چکے ہیں۔

انھوں نے اپنے بیٹے کو بلایا جس نے گریس ڈیول کے رکن پر حملہ کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے گریس ڈیول کے رکن پر ایک لکڑ سے حملہ کیا جو اسے لگنے پر دو ٹکڑے ہو گئی تھی۔ اس کے بعد حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔

ٹوآن نونا صالح فارس کے ایک ہمسائے نے بتایا کہ پچھلے ایک ہفتے میں ایسے بارہ حملے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا ’ان کو صرف اسی صورت میں پکڑا جا سکتا ہے اگر آپ کے پاؤں میں پہیے لگے ہوں۔‘

اگرچہ ٹوآن نونا صالح فارس کا کہنا تھا کہ وہ خوف زدہ ہیں کیونکہ انھوں نے سنا ہے کہ چند چور اچکے رسم و روایات پوری کرنے کے لیے عورتوں کے خون کی تلاش میں ہیں لیکن انھوں نے عجیب و غریب اور غیب پر مبنی کہانیوں کو رد کرتے ہوئے کہا ’وہ گوریلے کی طرح دکھائی دیتا تھا لیکن تھا ایک آدمی ہی۔‘

دوسری جانب پٹالم میں ایک تئیس سالہ پولیس اہلکار کو ایک گروہ نے مارا جس کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے گاؤں والوں نے دکانیں بند کر دیں اور سفید جھنڈے لہرائے۔

اس پولیس اہلکار پر گریس ڈیول کے رکن کو پناہ دینے کا الزام لگایا گیا تھا لیکن درحقیقت ایسا کچھ نہیں تھا اور اہلکار کے دسترس میں کوئی مجرم نہیں بلکہ ایک نشے میں دھت مچھیرا تھا۔

لیکن اب ہر جگہ پر ٹینک تعینات ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں نے خود کار رائفلز تھام رکھی ہیں۔

گاؤں والوں کی جانب سے جب سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے خلاف احتجاج کیا گیا تو ان پر فائرنگ کی گئی اور مقامی لوگوں کو زخمی کر دیا گیا۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اکثر گریس ڈیول کے ارکان کو پولیس کمپاؤنڈ میں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

گاؤں کے ایک سنگھالی ٹی پریمسری مامی بڑھئی کا کہنا تھا کہ ان کے تین سو مسلمان خاندان ہمسائے ہیں اور ان سب کی اسے بہت فکر ہے۔

ٹی پریمسری نے بتایا ’مسلمان یہاں سے جا چکے ہیں، وہ ڈرے ہوئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں ان کے دکھ درد میں شامل ہوں کیونکہ رمضان کا مبارک مہینہ جاری ہے اور اس دوران وہ کچھ کھا پی نہیں سکتے۔ اور میرا نہیں خیال کہ ان حالات میں ویسے بھی ان کا کچھ کھانے کا دل کرے گا۔‘

گریس ڈیولز کون ہیں یہ تو ابھی تک کسی کو نہیں معلوم تاہم کئی افراد کا کہنا ہے کہ یہ حکومتی سازش ہے، دیگر سمجھتے ہیں کہ یہ صرف لوگوں کا وہم و گماں ہے۔ لیکن یہ جو کچھ بھی ہے حقیقت میں اس سے سماج میں نفرت کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

اسی بارے میں