امریکہ: ٹھیکوں میں تیس ارب ڈالر کا نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ نے افغانستان میں ٹھیکوں پر اربوں ڈالر صرف کیے ہیں

امریکی حکومت کو گزشتہ دس سالوں میں افغانستان اور عراق میں دیے جانے والے ٹھیكوں میں تیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ایک غیر جانبدار کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس نقصان کی وجہ ٹھیکیداروں پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ، خراب منصوبہ بندی اور دھوکہ دہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ ان ٹھیكوں میں احتساب اور مسابقت کا عمل معیار کے مطابق نہیں تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملکوں میں امریکہ نے جو بھی سرمایہ کاری کی ہے وہ امریکہ کے ان علاقوں سے انخلاء کے بعد ضائع ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں نقصانات کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ عراق میں امریکہ نے ایک جیل بنانے کا ٹھیکہ چار کروڑ ڈالر میں دیا لیکن جیل کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہوا اور دلچسپ بات یہ تھی کہ عراق کے لوگ چاہتے ہی نہیں تھے کہ ایسی جیل بنے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان ممالک کی حکومتیں ان منصوبوں کو آگے بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں جن میں امریکی پیسہ لگا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کو نقصان ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

اسی طرح کے ایک معاملے میں امریکہ نے کابل میں بجلی گھر بنانے میں تیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی لیکن اب افغان حکومت اسے چلا نہیں پا رہی۔

اسی طرح تقریبا ساڑھے گیارہ ارب ڈالر کا ایک اور پروگرام افغانستان کی قومی سلامتی کے دستوں کے لیے بنایا گیا لیکن اب شاید ہی اس کا استعمال کیا جائے گا۔

کمیشن کی پوری رپورٹ جلد ہی واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ہے لیکن اس کمیشن میں شامل سابق سرکاری افسروں اور قانون دانوں نے اخبار میں ایک کالم کے ذریعے اپنی رائے دی ہے۔ اس کالم میں انھوں نے اس خسارے کے لیے حکومت اور ٹھیکیداروں کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔

مضمون میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ ٹھیكوں کے معاملے میں سختی کی جائے اور ایسے ٹھیکے جنہیں آگے نہیں چلایا جا سکتا ان ٹھیكوں کو منسوخ کیا جائے یا ان میں تبدیلی لائی جائے۔

اسی بارے میں