’شام میں دورانِ حراست اٹھاسی ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں مارچ سے حکومت مخالف تحریک جاری ہے

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ پانچ ماہ میں اٹھاسی افراد دورانِ حراست ہلاک ہوئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق مرنے والوں میں دس بچے بھی شامل ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ مرنے والے تمام افراد کو حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور دورانِ حراست ان پر تشدد کیا گیا، انہیں جلایا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔

غیر ملکی صحافیوں کے شام میں داخلے پر پابندی عائد ہے اس لیے ان اطلاعات کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ الزامات ایک رپورٹ میں لگائے ہیں جو شامی حکومت کی جانب سے درعا میں ایک اجتماعی قبر کی موجودگی کی اطلاعات کی مسلسل تردید کے بعد سامنے آئی ہے۔

شام کے حالات پر تحقیق کرنے والے ایمنٹسی انٹرنیشنل کے محقق نیل سمنڈز کا کہنا ہے کہ ’دورانِ حراست ہلاکتوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ اس پرتشدد زندگی کا اگلا دور ہے جو ہم شام کی سڑکوں پر زور دیکھ رہے ہیں‘۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس ایسے تین ہزار افراد کے نام ہیں جو اس وقت شام میں زیرِ حراست ہیں۔ ’اس وقت شام میں بارہ سے پندرہ ہزار افراد حکومتی حراست میں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہاں تشدد ایک عام چیز ہے اور اب حالات زیادہ خراب ہو چکے ہیں اور بیشتر افراد کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے‘۔

نیل سمنڈز کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد پر تشدد کے زیادہ تر واقعات حمص اور درعا میں پیش آئے ہیں۔

درعا وہ پہلا شامی شہر تھا جہاں مارچ میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے اور پھر یہ شہر اس تحریک کا مرکز بن گیا تھا۔ شامی فوج نے درعا میں مظاہرین کو کچلنے کے لیے آپریشن بھی کیا تھا جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دورانِ حراست ہلاک ہونے والے افراد مرد تھے اور ان اٹھاسی میں سے کم از کم باون افراد کی ہلاکت میں تشدد کا مرکزی کردار تھا۔ درعا اور حمص کے علاوہ دمشق، رف دماشق،عدلب، حما اور الیپو میں بھی دورانِ حراست ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تنظیم کے مطابق اس کے پاس اٹھارہ سو ایسے افراد کی فہرست ہے جو حکومت مخالف مہم کے آغاز کے بعد سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں نامعلوم مقامات پر رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں