دس سال بعد بھی سازشی نظریات برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کو ہونے والے حملوں کو دس سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن اس عرصے میں بھی ان واقعات کے بارے میں سازشی نظریات کا زور کم نہیں ہوا ہے۔

نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے انہدام کے بعد سے اس معاملے پر متعدد سرکاری رپورٹیں سامنے آ چکی ہیں لیکن جب بھی کوئی ثبوت کسی ایک نظریے کے بارے میں شبہ پیدا کرتا ہے توجہ کسی اور ایسے سوال پر مرکوز ہو جاتی ہے جس کا جواب اب تک نہیں مل سکا ہے۔

یہاں پر ان حملوں کے بارے میں انٹرنیٹ پر سب سے مقبول پانچ سازشی نظریات دیے جا رہے ہیں۔

اغواء شدہ طیاروں کو روکنے میں ناکامی

سوال:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کیا وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فضائیہ اغواء کیے گئے چاروں طیاروں میں سے کسی ایک کو بھی نہ روک پائی؟

سازشی نظریہ

امریکی نائب صدر ڈک چینی نے فوج کو حرکت میں نہ آنے اور ان ہوائی جہازوں کو نہ روکنے کا حکم دیا تھا۔

سرکاری رپورٹ

یہ طیاروں کے اغواء کا ایک غیرمعمولی واقعہ تھا جہاں طیاروں پر سوار افراد کو تشدد کا سامنا تھا اور طیارے کی فضا میں موجودگی کے مقام کی صحیح نشاندہی کرنے والا ’ٹرانسپونڈر‘ یا تو بند کر دیا گیا تھا یا اسے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اس دن امریکی ائر ڈیفنس کمانڈ میں ایک فوجی تربیتی مشق بھی جاری تھی۔

ائر ٹریفک کنٹرولر کولن سکوگنز فوج سے مستقل رابطے میں تھے اور انہیں ردعمل میں کوئی کمی دکھائی نہیں دی۔ فوج اور سول ائر ٹریفک کنٹرول میں رابطے کا فقدان ضرور تھا۔

فوجی سازوسامان بھی پرانا تھا اور سرد جنگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اسے سمندر کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا۔

ٹوئن ٹاورز کا انہدام

سوال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاور اتنی جلدی کیسے منہدم ہوگئے جبکہ آگ نے اس کی چند منزلوں کو ہی متاثر کیا تھا اور یہ آگ بھی ایک سے دو گھنٹے تک ہی لگی رہی تھی؟

سازشی نظریہ

یہ ٹاور کنٹرول ڈیمولیشن طریقۂ کار سے تباہ کیے گئے۔ اس ضمن میں عمارتوں کے دس سیکنڈ کے عرصے میں منہدم ہونے، کم عرصے تک آگ کے لگنے، انہدام سے فوراً پہلے دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی باتیں کی جاتی ہیں۔

سرکاری رپورٹ

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کی مفصل تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ طیارے ٹکرانے سے عمارتوں کا بوجھ سہارنے والے ستون بری طرح متاثر ہوئے تھے اور اس حادثے کے نتیجے میں آگ بجھانے کا نظام بھی ناکارہ ہو گیا تھا۔

تقریباً دس ہزار گیلن جیٹ ایندھن کئی منزلوں پر پھیل گیا تھا اور اس سے وسیع علاقے میں آگ لگ گئی تھی۔ ایک ہزار سنٹی گریڈ تک کے درجۂ حرارت نے فرش کو پگھلا دیا اور ستون ٹیڑھے ہوگئے اور اسی وجہ سے’دھماکوں‘ کی آوازیں سنائی دیں۔

گرنے والی منزلوں کا وزن اس حد سے کہیں زیادہ تھا جسے سہارنے کے لیے یہ ستون بنائے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب منزلیں گریں تو ملبہ کھڑکیوں سے باہر جا گرا۔

کنٹرولڈ ڈیمولیشن ہمیشہ نچلی منزل سے اوپر کی جانب کی جاتی ہے جبکہ ان عمارتوں کا انہدام اوپر سے شروع ہوا۔

انتہائی مفصل تلاش کے باوجود کسی قسم کے دھماکہ خیز مواد کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی ستونوں اور دیواروں پر کسی قسم کی توڑ پھوڑ کے نشان دکھائی دیے جو کہ کنٹرولڈ ڈیمولیشن میں عام ہے۔

پینٹاگون پر حملہ

سوال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ناتجربہ کار پائلٹ ایک مسافر طیارے کو پیچیدہ راستے پر اڑاتے ہوئے دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے ہیڈکوارٹر سے ٹکرا دے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اغواء کی اطلاع سامنے آئے اٹھہتر منٹ ہو چکے ہوں۔ اور یہ بھی کہ اس تصادم کا کوئی ثبوت نہ ملے؟

سازشی نظریہ

ابتدائی نظریہ یہ تھا کہ امریکی محکمۂ دفاع کی عمارت سے کوئی بوئنگ 757 طیارہ نہیں بلکہ ایک میزائل ٹکرایا تھا یا پھر اس کارروائی میں کوئی چھوٹا طیارہ یا ڈرون استعمال کیا گیا۔ تاہم اب جبکہ امریکن ائرلائنز کی پرواز نمبر 77 کے عمارت سے ٹکرانے کے ثبوت سامنے آنے لگے ہیں تو بحث کا موضوع یہ سوال بن گیا ہے کہ یہ جہاز القاعدہ کے ہائی جیکرز کے نہیں بلکہ امریکیوں کے کنٹرول میں تھا۔

سرکاری رپورٹ

طیارے کا ملبہ اور بلیک باکس جائے حادثہ سے برآمد ہوئے اور ایف بی آئی نے ان کا اندراج کیا۔ اگرچہ ابتدائی ویڈیوز میں زیادہ ملبہ دکھائی نہیں دیتا تاہم ایسی ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں جس میں نہ صرف جہاز کا ملبہ موجود ہے بلکہ اس کے راستے میں آنے والے ٹوٹے ہوئے کھمبے بھی دکھائے گئے ہیں۔

اس طیارے پر سوار عملے اور مسافروں کی پہچان ڈی این اے کے ذریعے کی گئی جبکہ عینی شاہدین نے بھی طیارے کو پینٹاگون سے ٹکراتے دیکھا تھا۔

چوتھا طیارہ یونائیٹڈ ائرلائنز فلائٹ 93

سوال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کیا وجہ ہے کہ شینکس ویل میں طیارے کی تباہی کی جگہ بہت مختصر ہے اور ملبہ کہیں دکھائی نہیں دیتا؟

سازشی نظریہ

یونائیٹڈ ائر لائنز فلائٹ 93 کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا اور اس کا ملبہ فضا میں ہی بکھر گیا اور ایک وسیع علاقے میں پھیلا۔

سرکاری رپورٹ

طیارے کے ملبے اور کاک پٹ کے وائس ریکارڈر کی واضح تصاویر موجود ہیں جس میں ظاہر ہے کہ مسافروں نے بغاوت کی اور ہائی جیکرز نے جان بوجھ کر جہاز گرا دیا۔

یہ اندازے کے طیارے کا بھاری ملبہ حادثے کی جگہ سے دور دور تک پھیلا صحیح ثابت نہیں ہوئے۔ درحقیقت ہوا ملبے میں شامل ہلکی اشیاء جیسے کہ کاغذ اور انسولیشن صرف ایک میل دور سے ملے۔

ایک اور نظریہ مقامی ڈاکٹر والی ملر کے اس بیان سے ماخوذ ہے جسے غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر ملر نے کہا تھا کہ وہ حادثے کے بیس منٹ بعد وہاں پہنچے لیکن وہاں کوئی لاش نہیں تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں فوراً احساس ہوا کہ یہ طیارے کی تباہی کا معاملہ ہے اور کئی ہلاک شدگان کے جنازے ساتھ ہی اٹھیں گے۔

اس کے علاوہ امریکی فضائیہ کو کسی مسافر بردار طیارہ کو نشانہ بنانے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بلڈنگ 7 کا انہدام

سوال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک فلک بوس عمارت جسے کسی طیارے نے نشانہ بھی نہیں بنایا تھا اتنی جلدی اور منظم انداز میں کیسے گر سکتی ہے جب کوئی اور سٹیل کے فریم سے بنی فلک بوس عمارت آگ کی وجہ سے نہیں منہدم ہوئی؟

سازشی نظریات

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بلڈنگ نمبر سات کنٹرولڈ ڈیمولیشن کے ذریعے گرائی گئی۔ ابتدائی طور پر توجہ اس عمارت کے مالک لیری سٹیونسن کے ایک ٹی وی انٹرویو میں استعمال کیے گئے فقرے ’پُل اِٹ‘ پر رہی۔ لیکن درحقیقت وہ آگ بجھانے والے عملے کو علاقے سے نکالنے کی بات کر رہا تھا۔ (دھماکوں کے ماہر آتش گیر مادہ پھاڑنے کے لیے ’پل اٹ‘ کے الفاظ استعمال نہیں کرتے)۔

اب توجہ اس چیز پر ہے کہ عمارت کتنی تیزی سے یعنی قریبا77 ڈھائی سیکنڈ میں منہدم ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ صرف دھماکہ خیز مواد سے ہی ممکن ہے کہ عمارت اتنی تیزی اور سیدھی گرے۔

کچھ سائنسدانوں نے جو سرکاری رپورٹ سے متفق نہیں، گراؤنڈ زیرو کی گرد کا معائنہ کیا اور دعوٰی کیا کہ انہیں ایسا مواد ملا ہے جو گرم کرنے پر پھٹتا ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ کئی ٹن تھرمائٹ اور دیگر روایتی دھماکہ خیز مواد نہ صرف بلنڈنگ نمبر سات بلکہ ٹوئن ٹاورز میں رکھا گیا تھا۔

سرکاری رپورٹ

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کی تین سالہ تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ عمارت آتشزدگی کی وجہ سے گری اور یہ آگ قریبی شمالی ٹاور کے گرنے سے لگی جو کئی گھنٹے تک بھڑکتی رہی۔

عمارت میں آتشزدگی کے نتیجے میں پانی کے چھڑکاؤ کا خودکار نظام تباہ ہو چکا تھا۔ کسی دھماکہ خیز مواد کو کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی کنٹرولڈ ڈیمولیشن میں جس قسم کے دھماکے ہوتے ہیں ان کی آواز کی کوئی ریکارڈنگ ملی۔

دریں اثناء سائنسدانوں کو جو مادہ گراؤنڈ زیرو کی گرد سے ملا تھا اس کی بھی ایک متبادل تھیوری موجود ہے۔ یہ دراصل عمارتوں پر کیے جانے والے رنگ کی ایک قسم ہے۔ یہ حساب لگایا گیا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں بارہ لاکھ ٹن تعمیراتی سامان تباہ ہوا اور اس کی گرد میں اکثر عناصر پائے گئے۔ امریکہ کے ارضیاتی سروے اور آر جے لی کی رپورٹس کے مطابق اس گرد کے مفصل تجزیے سے کسی دھماکہ خیز مواد یا تھرمائٹ کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں