’القاعدہ سے مذاکرات کی کوشش‘

تصویر کے کاپی رائٹ m
Image caption دہشت گردی کے خلاف فوجی اور سکیورٹی اقدامات ایک حد تک ہی جا سکتے ہیں اور آخر کا دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ایک سیاسی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، بیرونس مینگہیم بلر

برطانوی انٹیلیجنس ادارے ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ نے کہا ہے کہ امریکی اور برطانوی ادارے القاعدہ سے مذاکرات کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ بیرونس الایزا مینگہیم بلر کا کہنا ہے کہ امریکی اور برطانوی انٹیلیجنس اداروں کی اس کوشش کا مقصد یہ ہے کہ القاعدہ کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے ساتھ مذاکرات ابھی دور ہیں۔

بیرونس الایزا لندن میں بی بی سی کے خصوصی سلسلے ’ریتھ لیکچرز‘ کے سلسلے کے پہلا لیکچر دے رہی تھیں۔

انہوں نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات کو جنگ نہیں جرم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف فوجی اور سکیورٹی اقدامات ایک حد تک ہی جا سکتے ہیں اور آخر کا دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ایک سیاسی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ’وار آن ٹیرر‘ جیسے الفاظ کو انہوں نے کبھی بھی مددگار نہیں پایا اور عراق پر حملے نے القاعدہ سے مغرب کی توجہ ہٹائی۔

بیرونس الایزا نے کہا کہ عراق پر جارحیت نے جہاد کا جواز فراہم کیا اور کچھ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی کی جانب مائل کیا۔

اسی بارے میں