ترکی: اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم

Image caption فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔

ترکی نے اسرائیلی سفیر کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تمام فوجی معاہدے معطل کر دیئے ہیں۔

ترکی کا یہ اقدام فلسطینی علاقے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی اس جائزہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس کے اقتباسات نیویارک ٹائمز نے شائع کیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کا بحری محاصرہ قانونی ہے تاہم اسرائیل نے اس چھاپے کے دوران نامعقول اور غیر ضروری طاقت کا استعمال کیا۔

اسرائیلی فوج کی کارروائی میں ترکی کے نو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ جائزہ رپورٹ تاحال باقاعدہ طور پر جاری نہیں کی گئی ہے تاہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے ذرائع سے حاصل کر کے اسے جمعرات کو شائع کیا ہے۔

گزشتہ برس اکتیس مئی کو سپیڈ بوٹس اور ہیلی کاپٹرز پر سوار اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں موجود امدادی قافلے کی چھ کشتیوں میں سے سب سے بڑی کشتی ماوی مرمرا پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کارروائی میں آٹھ ترک اور ایک ترک نژاد امریکی امدادی کارکن ہلاک ہوا تھا۔

فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات منجمد ہو گئے ہیں۔ ترکی چاہتا ہے کہ اسرائیل اس کارروائی پر معافی مانگے۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ناکہ بندی کے علاقے سے بہت فاصلے پر، اسرائیلیوں کا بغیر حتمی تنبیہ کے اتنی طاقت کے ساتھ کشتیوں پر چڑھ آنا غیر ضروری اور نامعقول تھا‘۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوریزک شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کو کئی گولیاں ماری گئیں اور ان کی پشت کو بہت قریب سے نشانہ بنایا گیا اور اسرائیل نے اس بات کی طریقے سے نشاندہی نہیں کی تھی۔

تاہم نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم جیفری پامر کی سربراہی میں قائم چار رکنی انکوائری کمیٹی اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کی بحری ناکہ بندی کو قانونی قرار دیا ہے۔ کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے سلسلے میں فلوٹیلا نے لاپرواہی سے کام لیا‘۔

اسرائیل اس بحری ناکہ بندی کو فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے سلسلے میں احتیاطی تدبیر قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینیوں اور ان کے حامی اس محاصرے کو غیرقانونی قرار دیتے ہیں اور ایک اجتماعی سزا سے تعبیر کرتے ہیں۔

انکوائری رپورٹ میں اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ اس کارروائی کے بارے میں ایک ’پشیمانی کا ایک مناسب پیغام جاری کرے اور ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد یا ان کے اہلِخانہ کو زرِ تلافی ادا کرے‘۔

رپورٹ میں اسرائیل اور ترکی سے کہا گیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطٰی میں استحکام کے لیے اپنے مکمل سفارتی تعلقات بحال کریں۔

Image caption کارروائی میں آٹھ ترک اور ایک ترک نژاد امریکی امدادی کارکن ہلاک ہوا تھا۔

ترکی نے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے بعد اس سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ ترکی کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اپنے اس عمل پر معافی مانگے جبکہ اسرائیلی حکومت معافی مانگنے پر تیار نہیں تاہم اس کا کہنا ہے کہ زرِ تلافی کی ادائیگی ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کا اجراء کئی بار اس امید کے ساتھ ملتوی کیا گیا تھا کہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں بہتری آ جائے گی لیکن ایسا ہو نہ سکا اور اب یہ جلد ہی باقاعدہ طور پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو پیش کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں