نیپال کی معذور خاتون کا اعزاز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جھمک کماری اپنی بہن کی پڑھائی سن کر لکھنے کی کوشش کرتی تھیں

نیپال میں بولنے سے قاصر اور پاؤں سے لکھنے والی ایک نوجوان خاتون نے ملک کا سب سے اعلیٰ ادبی ایوارڈ جیت لیا ہے۔

تیس سالہ جھمک کماری جو رعشہ کی بیماری میں مبتلا ہیں نے اپنی کتاب ’کیا زندگی ایک کانٹوں والا پودا یا پھول ہے؟‘ پر مدن پوراسکر ایوارڈ جیتا ہے۔

جھمک کماری نے ایوارڈ یافتہ مضامین کے علاوہ شاعری پر چار، مختصر کہانیوں پر دو کتابیں لکھنے کے علاوہ اخبارات کے لیے متعدد کالمز لکھے ہیں۔

اپنی کتاب میں جھمک کماری نے اپنی جدوجہد کے بارے میں بتایا کہ وہ شمالی نیپال کےایک عام سے خاندان میں پیدا ہوئیں۔

ان کے مطابق وہ بچپن میں بولنے سے قاصر ہونے کے علاوہ اپنے ہاتھ بھی استعمال نہیں کر سکتی تھیں۔

انہیں پڑھنے کے لیے سکول نہیں بھیجا گیا اور وہ اپنی بہن کی پڑھائی سن کر لکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔

جھمک کماری نے انعام یافتہ کتاب میں اپنی زندگی میں پہلی بار نیپالی حروف تہجی کا پہلا حرف’ کا‘ لکھنے کے اپنے تجربے کے بارے میں بیان کیا۔

ان کا کہنا تھا ’میں خوشی کے اس لمحے کے بارے میں کسی کو بتا نہیں سکتی تھی لیکن میرا پہلا حرف جو میں نے زمین پر پڑی گرد پر لکھا اور دل میں اسے حرف کو بول سکتی تھی میں بہت خوش تھی اور میں نے متعدد بار یہ حرف لکھا‘۔

انھوں نے کہا کہ اپنی زندگی کے پہلے حرف کو بڑا یا نمایاں کر کے زمین پر لکھا تھا تاکہ لوگ اس کو دیکھ سکیں تاہم کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا اور اس پر چلتے ہوئے اس کو مٹا دیا، یوں میرا پہلا حرف کسی کے پڑھے بغیر مٹ گیا۔

جھمک کماری یاد دلاتی ہیں کہ کس طرح زمین پر لکھنے سے ان کے پاؤں سے خون نکلتا تھا تاہم شروع میں ان کی یہ کوشش پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔

جھمک کماری کے ادبی سفر کی شناخت کی رفتار بہت سست رہی۔

اپنی کامیابی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ ایوارڈ جیتنے پر بہت زیادہ خوش ہیں۔

انہوں نے کہا ’میں سمجھتی ہوں کہ مجھے جلد دوبارہ لکھنا شروع کرنا چاہیے۔‘

ان کے مطابق ان کے والدین جن کا خیال تھا کہ پاؤں سے لکھنا بدقسمتی کی علامت ہے انہیں پاؤں سے لکھنے پر تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔

جھمک کماری کے والد کرشنا پرساد یاد دلاتے ہیں کہ ان کے ایک ہمسائے نے کس طرح اپنی سات سال کی معذور بیٹی کو دریا میں پھینک دیا تھا۔

کرشنا پرساد کا کہنا تھا ’میں اس دن بہت زیادہ افسردہ تھا لیکن آج میں بہت خوش ہوں، میری بیٹی نے ہمارے پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے‘۔

نیپال میں معذور افراد جھمک کماری کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں ایک دوسرے سے ذکر کرتے ہیں۔

نیپال میں انسانی حقوق سے متعلق ایک گروپ نے حالیہ دنوں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا ہے کہ کس طرح معذور نیپالی بچوں کو تعلیم سے الگ رکھا جاتا ہے۔