بنی ولید: قذافی کے حامیوں سے مذاکرات ناکام

لیبیا فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کرنل قذافی کے حامی چاہتے تھے کہ قذافی مخالف فوج قصبے میں بغیر ہتھیار لیے داخل ہو

لیبیا میں عبوری حکومت کی حامی فوجوں کا کہنا ہے کہ ریگستانی قصبے بنی ولید میں موجود معمر قذافی کے حامیوں سے بات چیت ناکام رہی ہے۔

عبوری حکومت کی حامی فوج نے قصبے کا تین جانب سے محاصرہ کیا ہوا ہے اور وہاں موجود معمر قذافی کے حامیوں سے ہتھیار ڈالنے کو کہا ہے۔

طرابلس کے جنوب مشرق میں ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بنی ولید ان چار شہروں یا قصبوں میں سے ہے جو اب بھی کرنل قذافی کے حامیوں کے قبضے میں ہیں۔ ان میں بنی ولید کے علاوہ جرفعہ،صبحا اور قذافی کی جائےپیدائش سرت شامل ہیں۔

معمر قذافی کے مخالف ایک مذاکرات کار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بنی ولید کے عوام کو علاقہ چھوڑنے نہیں دیا جا رہا اور انہیں خدشہ ہے کہ یا انہیں انتقاماً ہلاک کر دیا جائے گا یا بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد اب معاملہ فوجی کمانداروں کو سونپ دیا گیا ہے۔

لیبیا کی عبوری حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب اسے یقین ہے کہ کرنل قدافی کی بیٹا خمیس مارا جا چکا ہے۔

نیشنل ٹرانزیشنل کونسل یا این ٹی سی کا کہنا ہے کہ خمیس طرابلس کے نزدیک ایک جھڑپ میں ہلاک ہوا اور انہیں بنی ولید کے قریب دفنایا گیا ہے۔ این ٹی سی کے مطابق اس جھڑپ میں خفیہ ادارے کے سابق سربراہ عبداللہ سنوشی کا بیٹا بھی ہلاک ہوا ہے۔

خمیس کی ہلاکت کی مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ معمر قذافی کے خلاف تحریک کے دوران پہلے بھی دو مرتبہ خمیس کی ہلاکت کی اطلاعت سامنے آئی تھیں۔

مذاکرات کار عبداللہ کینچل کا کہنا ہے کہ ’قذافی کے حامیوں سے بات چیت ناکام رہی ہے اور اب دوبارہ بات نہیں ہوگی۔ میں اب اس مسئلے کے حل کی ذمہ داری فوجی کمانڈر پر چھوڑتا ہوں‘۔ انہوں نے بتایا کہ کرنل قذافی کے حامی چاہتے تھے کہ قذافی مخالف فوج قصبے میں بغیر ہتھیار لیے داخل ہو۔

تاہم کچھ اطلاعات کے مطابق قصبے میں موجود قبائلی زعماء میں بات چیت کا عمل جاری ہے اور قصبے پر فوجی کارروائی کا فوری امکان نہیں۔

اس سے پہلے عبداللہ کینچل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بنی ولید میں دو کرنل اور ان کے ساتھی خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کاروں نے انہیں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس کی وجہ ان کی فوجی طاقت نہیں بلکہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان سے بچنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ بنی ولید میں کسی کو بھی کچھ ہو۔ ہم پرامن طریقے سے اندر داخل ہونا چاہتے ہیں اور لوگ محفوظ رہیں گے کیونکہ دوسری صورت میں اگر وہ قذافی کی حامی فوج کا ساتھ نہیں دیتے تو انہیں یا تو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جا سکتا ہے یا انہیں انتقام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔

سنیچر کو لیبیا میں قومی عبوری حکومت نے کہا تھا کہ اس کی فوج قذافی کے آبائی شہر سرت کے علاقہ ضفرا اور صبا علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔

عبوری حکومت کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ ان شہروں کو انسانی امداد دی جارہی ہے لیکن ہتھیار ڈالنے اور خون خرابے سے بچنے کے لیے اس شہر کے پاس ایک ہفتے کا وقت ہے۔

اسی بارے میں