ایران: جوہری پلانٹ کو گرڈ سے جوڑ دیا گیا

ایران کا جوہری پلانٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تہران کا کہنا ہے کہ پرامن مقاصد کے لیے یہ پلانٹ بنایا گیا ہے

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے پہلے جوہری پاور پلانٹ کو بجلی پہنچانے والے گرڈ سے جوڑ دیا گیا ہے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ بجلی پہنچانے والے گرڈ کو ساٹھ میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا۔

اس ریکٹر میں کام مئی میں شروع ہوگیا تھا جس کے بعد اسرائیل اور بعض دیگر ممالک نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس سے ایران اپنے جوہری اسلحہ بنائے گا۔

ایران کا کہنا ہے کہ جوہری پلانٹ پرامن مقاصد کے لیے لگایا گیا ہے۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر فکرمند ہے کہ ایران خاموشی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام سے منسلک بعض ہتھیار بنا رہا ہے۔

ایران کے جوہری توانائی کے ادارے نے کہا ہے کہ پلانٹ کو سنیچر کو بجلی کے گرڈ سے جوڑا گیا۔ حالانکہ یہ کام گزشتہ برس ہونا تھا۔

واضح رہے کہ اس ریکٹر کا کام 1970 میں شروع ہوا تھا لیکن اس میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی۔

ایران میں 1979 میں انقلاب کی تحریک کے بعد اس پلانٹ کا کام روک دیا گیا تھا جس کے بعد نوے کے دہائی میں روس نے ایران کے ساتھ اس ریکٹر کو پورا کرنے کا سودا کیا۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک لگاتار روس سے اپیل کرتے رہے ہیں کہ وہ اس پروجیکٹ کو بند کردے کیونکہ اُن کے مطابق ایران اس سے جوہری اسلحہ بنا سکتا ہے۔

اسی بارے میں