قذافی مخالف فوجیں بنی ولید کی دہلیز پر

لیبیا فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا میں گزشتہ کئی مہینوں سے لڑائی جاری ہے

لیبیا میں عبوری حکومت کی حامی فوجوں نے معمر قذافی کے حامیوں کے کنٹرول والے علاقے بنی ولید کو تین طرف سے گھیر لیا ہے اور وہاں موجود قذافی حامیوں سے ہتھیار ڈالنے کو کہا ہے۔

باغیوں کے ایک کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قدافی مخالف فورسز نے بنی ولید کو شمال، مشرق اور مغربی جانب سے گھیر لیا ہے۔

بنی ولید میں موجود کرنل قذافی کے حامیوں سے کہا گیا ہے کہ یہ تو اپنے آپ کو فوج کے حوالے کردیں یا پھر حملے کے لیے تیار رہیں۔

ریگستان کا یہ شہر بنی ولید گزشتہ برس اس وقت خبروں میں چھایا رہا تھا جب یہ بات سامنے آئی تھی کرنل قذافی کے بیٹے اس شہر کے راستے طرابلس سے بھاگے تھے۔

بعض خبروں کے مطابق قدافی کے خاندان کے بعض ارکان ابھی بھی اسی شہر میں موجود ہیں۔

سنیچر کو لیبیا میں قومی عبوری حکومت نے کہا تھا کہ اس کی فوج قذافی کے آبائی شہر سرت کے علاقہ ضفرا اور صبا علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔

عبوری حکومت کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ ان شہروں کو انسانی امداد دی جارہی ہے لیکن ہتھیار ڈالنے او خون خرابے سے بچنے کے لیے اس شہر کے پاس ایک ہفتے کا وقت ہے۔

کرنل قذافی کے بارے میں ابھی تک کوئی جانکاری نہیں ملی ہے۔

اسی درمیان لیبیا کی عبوری حکومت نے ملک میں لوگوں کو سیکورٹی فراہم کرنے اور اثر سرنو بسانے کا کام شروع کردیا ہے۔

عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے لیڈر فی الحال طرابلس نہیں جائیں گے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ باغیوں کے جانب سے نئی حکومت بنائے جانے میں ابھی دیر ہے۔

سنیچر کو اقوام متحدہ کی خصوصی صلاح کار ایان مارٹن لیبیا پہنچی اور انہوں نے عالمی برادری کی رہنمائی کرتے ہوئے لیبیا میں از ثر نو تعمیر کے کام کا آغاز کیا۔

لیبیا میں باغیوں نے دارالحکومت طرابلس کے زیادہ تر حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب ان کی پیش قدمی معمر قذافی کے آبائی علاقے سرت کی جانب ہے۔

اطلاعات کے مطابق باغیوں کو سرت کی جانب پیش قدمی میں تقیباً ایک ہزار قذافی کے حامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حامیوں کے ساتھ جھڑپ میں بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ باغیوں نے اس لڑائی کے لیے مزید کمک منگوا لی ہے۔

دوسری جانب لیبیا کی فوج کا سرت اور سبھا کے ریگستان پر مکمل کنٹرول ہے۔

کرنل قذافی کی حامی افواج کا ابھی تک ان کے آبائی شہر سرت اور جنوبی لیبیا میں کئی اہم اڈوں پر قبصہ ہے۔