ترکی کا عالمی عدالتِ انصاف جانے کا فیصلہ

Image caption غزہ جانے والے بحری جہاز پر اسرائیل فوج کے حملے میں ترک باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے ناکہ بندی کو عالمی عدالتِ انصاف میں چیلنج کرےگا۔

گزشتہ برس اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری جہاز پر حملے میں ترک باشندوں کی ہلاکت کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ احمد داوتالو کا کہنا ہے کہ ترکی اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتا جس کے مطابق غزہ کا ناکہ بندی سکیورٹی اقدامات کے طور پر کیا گیا ہے۔

غزہ ناکہ بندی:’صورتحال اب بھی مخدوش‘

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک روز قبل ہی ترکی نے اسرائیل کے سفیر کو ملک سے نکال دیا ہے۔

ترکی نے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون بھی ختم کر دیا ہے۔

ترکی کے سرکاری ٹیلی وژن پر بات کرتے ہوئے غزہ کی ناکہ بندی کا معاملہ بین القوامی عدالتِ انصاف میں لے جانے کے بارے میں ملک کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ’ ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کے بارے میں فیصلہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو کرنے دیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اس کے لیے ضروری قانونی کارروائی آئندہ ہفتوں میں شروع کر دے گا۔

بین الاقوامی عدالت انصاف ریاستوں کے مابین تنازعات کو حل کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی قائم کردہ عدالت ہے۔

اسرائیل کے نائب وزیرِ خادجہ ڈینی ایالون کا اصرار ہے کہ ان کے ملک نے ایسا کچھ نہیں کیا جس پر معافی مانگی جائے اور اس نے ترکی کے ساتھ کشیدگی سے بچنے کے لئے جو ہو سکتا تھا کِیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترکی اپنی مرضی سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھانا چاہتا ہے۔

سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جو ہونا تھا وہ ہو گیا اب ہمیں تعاون کرنا چاہئیے۔ عدم تعاون نہ صرف ہمیں بلکہ ترکی کو بھی نقصان پہنچائےگا۔‘

ادھر امریکہ کے محکمہء خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ترکی اور اسرائیل اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں