حسنی مبارک مقدمہ، سماعت بدھ تک ملتوی

حسنی مبارک تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حسنی مبارک پر لگے الزامات اگر صحیح ثابت ہوتے ہیں تو انہیں موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے

مصر کے دارلحکومت قاہرہ میں ملک کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

پیر کو سماعت کے موقع پر حسنی مبارک کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

صدر مبارک پر سب سے بڑا الزام احتجاجی مظاہرین کو ہلاک کرنے کا حکم دینا ہے۔ حسنی مبارک نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے جس لیے وہ مقدمے کا سامنا کریں گے۔

ان کے خلاف مقدمے کی یہ تیسری سماعت ہے۔ اس سے قبل جج نے مقدمے کی سماعت کی ٹی وی نشریات پر پابندی عائد کی تھی۔ واضح رہے کہ حسنی مبارک کے مقدمے کی سماعت کو براہ راست ٹی وی پر نشر کیا گیا تھا جس کی ان کے مخالفین نے بھی مخالفت کی تھی۔

اس سے قبل سماعت کی جو تصاویر دکھائی گئی تھیں ان میں حسنی مبارک کو ایک پنجرے میں قید عدالت میں دکھايا گیا تھا ۔

پیر کو سماعت کے دوران عدالت کے باہر جذباتی ماحول تھا۔ قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض افراد حسنی مبارک کے حق میں نعرے لگا رہے تھے وہیں بعض ان کو پھانسی کی سزا سنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سماعت شروع ہونے سے پہلے بیمار حسنی مبارک کو قاہرہ کے ایک ہسپتال سے ہیلی کاپٹر میں لایا گیا ۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ انہیں وہیل چئیر پر عدالت میں لایا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق سابق صدر کے بیٹے عالہ اور جمال کے علاوہ دیگر اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

صدر مبارک اور ان کے بیٹوں کے علاوہ وزیر داخلہ حبیب العدلی کو بھی مقدمے کا سامنا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ احتجاجیوں کی ہلاکت کے لیے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔

ابتدائی طور پر حکام نے عدالتی کارروائی کا انعقاد قاہرہ کے کنوینشن سینٹر میں کیا تھا تاہم بعد میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس کارروائی کو عارضی طور پر پولیس اکیڈمی کے اندر خصوصی طور پر قائم ایک عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔

مدعا علیہ کے لیے خصوصی طور پر ایک پنجرہ تیار کیا گیا ہے جبکہ اس عدالتی کارروائی کو ایک اندازے کے مطابق چھ سو لوگ دیکھ سکیں گے۔

مصر میں اٹھارہ روز تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد صدر حسنی مبارک اقتدار چھوڑ کر شرم الشیخ منتقل ہوگئے تھے۔ ان احتجاجی مظاہروں میں آٹھ سو پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں مصری شہریوں کو یقین ہے کہ فوج نہیں چاہتی ہے کہ سابق صدر کو تذلیل کا سامنا کرنا پڑے۔

اسی بارے میں