صومالیہ:قحط سے لاکھوں ہلاکتوں کا خدشہ

صومالیہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صومالیہ میں مجموعی طور پر چالیس لاکھ افراد بحران کا شکار ہیں:یو این

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں خشک سالی میں شدت آ رہی ہے اور اس سے تقریباً ساڑھے سات لاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ ایک نئے علاقے کو قحط زدہ قرار دیدیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی افریقہ کے اس بدترین قحط میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

’بے‘ قحط زدہ قرار دیا جانے والا چھٹا علاقہ بن گیا ہے۔ قحط زدہ قرار دیئے جانے والے زیادہ تر علاقے جنوبی صومالیہ میں ہیں جس پر شدت پسند مذہبی تنظیم الشباب کا کنٹرول ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس پورے خطے میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو خوراک اور دیگر امداد کی شدید ضرورت ہے۔

’بے‘ کو قحط زدہ علاقوں کے زمرے میں شامل کیے جانے کے بعد اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں حالات صرف خراب ہی ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الشباب کے کارکن قحط متاثرہ افراد کو امدادی سامان دیتے ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے خوراک اور غذائیت کے ماہرین کے یونٹ کا کہنا ہے کہ صومالیہ میں مجموعی طور پر چالیس لاکھ افراد بحران کا شکار ہیں اور جلدی ہی کچھ نہ کیا گیا تو اگلے چار ماہ میں ساڑھے سات لاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے۔

یو این کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں میں آدھی تعداد بچوں کی تھی جبکہ ہزاروں لاکھوں صومالی مدد کے حصول کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شمال مشرقی افریقہ میں جاری خشک سالی میں صومالیہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں بیس سال سے کوئی قومی حکومت نہیں ہے جس کے سبب حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔

دارالحکومت موغادیشو پر اقوامِ متحدہ کی حمایت والی حکومت کا کنٹرول ہے۔

بی بی سی کے مشرقی افریقہ کے نامہ نگار ول راس کا کہنا ہے کہ امدادی ایجنسیوں کے لیے الشباب کے کنٹرول والے علاقوں تک رسائی اب بھی مشکل ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان علاقوں تک کچھ امداد پہنچائی جا رہی ہے لیکن وہ ناکافی ہے۔

اگر اکتوبر اور نومبر میں بارشیں ہوتی ہیں تب بھی اگلی فصل تیار ہونے تک لوگوں کو امداد کی ضرورت ہوگی۔

اسی بارے میں