’نیٹو نے قیدیوں کی منتقلی روک دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایساف کے ایک اہلکار نے رپورٹ کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے

بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق افغانستان کی جیلوں میں تشدد کے الزامات سامنے آنے کے بعد نیٹو نے کئی افغان جیلوں میں قیدیوں کو منتقل کرنے کا عمل روک دیا ہے۔

تشدد کے الزامات اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قیدیوں سے کس طرح مار پیٹ کی جاتی ہے اور بعض واقعات میں برقی جھٹکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ابھی جاری نہیں کی گئی ہے۔

جن جیلوں میں تشدد کے الزامات سامنے آئے ہیں وہ افغان پولیس اور انٹیلی جنس سروس کے زیر انتظام ہیں۔

ان میں انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس کے زیرانتظام ہیرات، خوست، لغمان، کپیسا اور تخار کی جیلیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ افغان پولیس کے زیرانتظام قندوز اور ترین کوٹ کی جیلیں بھی شامل ہیں۔

نیٹو کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ جب تک الزامات کی تفتیس نہیں ہو جاتی ہے اس وقت تک یہ قدم احتیاط کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔

نیٹو اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے تک بین الاقوامی سکیورٹی اینڈ اسسٹنٹ فورس یا ایساف نے مناسب احتیاطی تدابیر کے طور پر قیدیوں کو چند جیلوں میں منتقل کرنے کا عمل روک دیا ہے۔‘

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والے زیادہ تر قیدیوں کو نیٹو فوج نے افغان حکام کے حوالے کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایک انیس سالہ شخص کو انیس دن تک مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں خون بہنے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

ان قیدیوں میں سے زیادہ تر کو مزاحمت کار ہونے کے شبہ میں حراست میں رکھا گیا ہے اور ان میں سے بعض بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں اٹھائے گئے مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے افغان حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

ایساف کے ایک اہلکار نے رپورٹ کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں