’قذافی کے سکیورٹی چیف نائجیر میں ہیں‘

بن ولید تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبیا کے باغیوں کے ایک وفد نے منگل کو بنی ولید میں قبائلی رہنماؤں سے دوبارہ مذاکرات کیے ہیں

نائجیر میں حکام کے مطابق دارالحکومت نیامی پہنچنے والے کئی سابق لیبیائی اہلکاروں میں کرنل قذافی کے سکیورٹی چیف بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق کرنل قذافی کے سکیورٹی چیف منصور دا اتوار کو نائجیر کے دارالحکومت نیامی پہنچے ہیں۔

دریں اثناء اطلاعات کے مطابق کرنل قذافی کے درجنوں مسلح حامیوں کے ایک قافلے نے نائجیر کی سرحد عبور کی ہے۔

اس قافلے میں شامل گاڑیوں میں سونا اور کرنسی بھی موجود ہے تاہم نائجیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں کرنل قذافی اس قافلے میں شامل نہیں ہیں۔

پچاس گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ پیر کو آغادیز شہر پہنچا اور اطلاعات کے مطابق اب جنوب مشرق کی جانب نو سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دارالحکومت نیامی کی جانب سفر کر رہا ہے۔

امریکہ نے نائجیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے کرنل قذافی کی حامی شخصیات کو گرفتار کیا جائے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹویا نیولینڈ نے کہا ہے کہ’ ہم نائجیر کے حکام سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کرنل قذافی کی حکومت کے ان ارکان کو حراست میں لے جن کے خلاف عدالتی کارروائی ہو سکتی ہے۔‘

لیبیا میں باغیوں کے کونسل این ٹی سی کے ایک ترجمان گوما ال گماتے نے بی بی سو کو بتایا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ نائجیر نے قذافی کو فرار میں مدد فراہم کی تھی تو اسے قابلِ سزا ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ نائجیر جنوب میں لیبیا کا ہسمایہ ہے اور اسے مستقبل میں لیبیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچنا چاہیے، اور اگر یہ ثابت( قذافی کے فرار میں مدد) ہو گیا تو اس کے لیبیا اور نائجیر کے مستقبل کے تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘

بن ولید، ہتھیار ڈالنے کے لیے مذاکرات

لیبیا کے باغیوں کے ایک وفد نے منگل کو بنی ولید میں قبائلی رہنماؤں سے دوبارہ مذاکرات کیے ہیں تاکہ کرنل قذافی کے حامیوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

اس سے پہلے باغیوں نے بنی ولید میں موجود کرنل قذافی کے حامیوں کو ہتھیار ڈالنے کی مہلت میں اضافہ کیا تھا۔

طرابلس کے جنوب مشرق میں ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بنی ولید ان چار شہروں یا قصبوں میں سے ہے جو اب بھی کرنل قذافی کے حامیوں کے قبضے میں ہیں۔ ان میں بنی ولید کے علاوہ جرفعہ،صبحا اور قذافی کی جائے پیدائش سرت شامل ہیں۔

باغیوں نے شہر کے اطراف میں پوزیشن سنبھال رکھی ہے اور شہر میں موجود کرنل قذافی کے حامیوں کو پرامن طریقے سے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں