بحرین میں طبی کارکن ضمانت پر رہا

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption طبی عملے کے ان ارکان کے خلاف مقدمہ ایک فوجی عدالت میں چلایا گیا

بحرین میں طبی عملے کے ان بیس ارکان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جنہیں حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے باعث حراست میں لیا گیا تھا۔

ان افراد نے جیل میں اپنے دیگر سو کے قریب ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔

فروری سے بحرین میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قیادت میں جاری مظاہروں کے دوران سیکنڑوں لوگوں کو قید کیا گیا۔ یہ لوگ سنی حکمران ریاست سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک چوبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار پولیس اہلکار شامل ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تیس ہے۔

بحرین کے حکمران شاہ حماد نے ریاستی اداروں کی جانب سے مظاہرین کے سلوک کی تفتیش کرنے لیے غیر ملکی ماہرین پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا تھا۔

بدھ کو اس پینل نے کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے ایک سو افراد بھوک ہڑتال کر رہے ہیں جن میں سے سترہ کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

طبی عملے کے ان ارکان کے خلاف مقدمہ ایک فوجی عدالت میں چلایا گیا حالانکہ بحرین کے شاہ حماد نے یہ یقین دلایا تھا کہ جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں سے تعلق کے الزام میں گرفتار ہونے والے تمام افراد کے خلاف مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔

بحرین میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی طبی ارکان کے حوالے سے خدشات ہیں کیونکہ ان کے خلاف الزمات واپس نہیں لیے گئے۔ عدالت اپنا فیصلہ انتیس ستمبر کو سنائے گی۔

ان ارکان کو مارچ میں ماناما پرل راؤنڈ اباؤٹ سے سکیورٹی کریک ڈاؤن کے وقت گرفتار کیا گیا تھا جہاں سے حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے۔ یہ جگہ مظاہروں کا مرکز تھی اور اسے بعد میں فورسز نے ختم کر دیا گیا تھا۔

بہت سے ڈاکٹروں اور سیاسی قیدیوں نے حکومت پر دورانِ حراست انہیں تشدد کا نسانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بحرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ چار سو پانچ مقدمات عدالتوں میں بھجوائے جا چکے ہیں جبکہ تین سو بارہ لوگوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں