قذافی کا بیٹا ’فرار‘، مہلت میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیبیا کے ہمسایہ ملک نائیجر کا کہنا ہے کہ لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی کا بیٹا سعدی قذافی نائیجر پہنچ گئے ہیں۔

نائیجر کے وزیرِ قانون کا کہنا ہے کہ سعدی اس کاروان میں تھے جو نائیجر کے دارالحکومت پہنچا ہے۔

تاہم معمر قذافی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ لیکن ان کے بیٹے سعدی کا کہنا ہے کہ ان کے والد معمر قذافی کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا ہی میں رہیں گے۔

نائیجر کے وزیرِ قانون کا کہنا ہے کہ سعدی کاروان میں شامل آٹھ افراد کے ہمراہ نائیجر کے دارالحکومت پہنچے ہیں۔

دوسری جانب قذافی مخالف فوج کا کہنا ہے کہ وہ بنی ولید میں موجود لیبیائی رہنماؤں کے حامیوں کو ہتھیار ڈالنے کی مہلت میں اضافہ کیا ہے اور اب ان کے پاس اس کام کے لیے اختتامِ ہفتہ تک کا وقت ہے۔

ادھر نیٹو کا کہنا ہے کہ لیبیا میں اس کا مشن تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن ہے۔

اس سے قبل باغیوں کا کہنا تھا کہ بنی ولید سے متعلق مذاکرات نا کام ہو گئے ہیں اور اب قصبے پر حملہ یقینی ہے تاہم اب لیبیا کی عبوری حکومت کے سربراہ مصطفٰی عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ سنیچر کی طے شدہ مدت تک مذاکرات جاری رہیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مصطفٰی عبدالجلیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ روپوش لیبیائی رہنما کرنل معمر قذافی کے دو بیٹے بنی ولید چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیف الاسلام اور متسم قذافی بنی ولید میں لوگوں کو ہتھیار ڈالنے سے روک رہے تھے۔

طرابلس کے جنوب مشرق میں ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بنی ولید ان چار شہروں یا قصبوں میں سے ہے جو اب بھی کرنل قذافی کے حامیوں کے قبضے میں ہیں۔ ان میں بنی ولید کے علاوہ جرفعہ،صبحا اور قذافی کی جائے پیدائش سرت شامل ہیں۔

لیبیا کی عبوری حکومت کی فوج کے سینکڑوں مسلح جوانوں نے بنی ولید کا تین اطراف سے محاصرہ کیا ہوا ہے اور وہ شہر پر حملے کے لیے تیار ہیں۔

معمر قذافی کے مخالف ایک مذاکرات کار نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ بنی ولید کے عوام کو علاقہ چھوڑنے نہیں دیا جا رہا اور انہیں خدشہ ہے کہ یا انہیں انتقاماً ہلاک کر دیا جائے گا یا بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جائے گا۔

عبداللہ کینچل کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ بنی ولید میں کسی کو بھی کچھ ہو۔ ہم پرامن طریقے سے اندر داخل ہونا چاہتے ہیں اور لوگ محفوظ رہیں گے کیونکہ دوسری صورت میں اگر وہ قذافی کی حامی فوج کا ساتھ نہیں دیتے تو انہیں یا تو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جا سکتا ہے یا انہیں انتقام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندریس راسموسین کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ لیبیا پر نیٹو کے فضائی حملے جلد ہی بند ہو جائیں گے۔ برسلز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’شہریوں کے تحفظ کا ہمارا مشن کامیابی کے نزدیک ہے لیکن ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبیا پر نیٹو کے فضائی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک شہریوں کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مشن کے خاتمے کی حتمی تاریخ تو نہیں دے سکتے ’لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ جلد ہوگا‘۔

آندریس راسموسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیبیا مشن نے جو اپنے چھٹے ماہ میں ہے نیٹو کو اہم سبق سکھائے ہیں اور نہ صرف یہ دکھایا ہے کہ اس مغربی اتحاد کی طاقت کیا ہے بلکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اتحاد امریکی فوجی طاقت پر کس قدر انحصار کرتا ہے۔

اسی بارے میں