شام میں قیامِ امن پر عرب لیگ سے سمجھوتہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہمارے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا ہے کہ شام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی: نبیل اعرابی

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل اعرابی نے کہا ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد کے ساتھ ان کے ملک میں مہینوں سے جاری تشدد کو ختم کرنے کے لی اقدامات کرنے پر سمجھوتہ ہوگیا ہے۔

نبیل اعرابی نے کہا کہ انہوں نے دمشق میں صدر اسد سے اس معاملے پر بات چیت کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اصلاحات کے منصوبہ کو جلد عملی جامہ پہنائیں۔

حکومت کے خلاف مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں میں مزید چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے حمص شہر میں پانچ مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کیا ہے جبکہ ایک صوبۂ ادلیب میں مارا گیا ہے۔

عرب لیگ نے شام میں تشدد کی مذمت کی ہے اور شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کی سیاسی امنگوں اور ان کے جائز معاشی حقوق کو تسلیم کرے۔

انہوں نے کہا ’ہمارے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا ہے کہ شام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

نبیل اعرابی نے کہا کہ انہوں نے شام کے صدر سے کہا ہے کہ وہ اصلاحات کے منصوبوں کو نافذ کرنے کے لیے ٹائم ٹیبل دیں تاکہ شام کا ہر شہری محسوس کرے کہ اب ملک نئی سمت جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دمشق میں اصلاحات کا پیکج زیرِ بحث آیا تھا جو اب عرب لیگ کی کونسل میں پیر کو پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے اس پیکج کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں تاہم مقامی اخبارات کا خیال ہے کہ عرب لیگ شام میں مخلوط حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے تین سال کا ٹائم ٹیبل چاہتی ہے۔

شام کے خبررساں ادارے ثناء کا کہنا ہے کہ عرب لیگ شام میں استحکام لانے کے لیے پُر عزم ہے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک میں تشدد جاری ہے جبکہ سکیورٹی فورسز حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو کچلنے کی کوشش کررہی ہیں حالانکہ دارالحکومت میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔

اسی بارے میں