سو کے قریب امریکی فوجی زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption افغانستان میں اسوقت ایک لاکھ امریکی فوجی موجود ہیں

افغانستان کے صوبے وردک میں بارود سے بھرا ایک ٹریک ایک خود کش حملہ آوور نے امریکی فوجی اڈے سے ٹکرا دیا جس میں دو افغان شہری ہلاک اورسو سے زیادہ فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے میں فوجیوں میں زیادہ تر امریکی فوجی ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی جان لیوا زخم نہیں آیا ہے۔

اس کے علاوہ بگرام کے امریکی فوجی اڈے پر راکٹ بھی داغے گئے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے ایسے موقع پر کیے گئے ہیں جب کابل میں امریکی سفارت خانہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گرد حملوں کے دس سال مکمل ہونے پر یادگاری تقریبات منعقد کر رہا ہے۔ امریکہ پر ان حملوں کے بعد ہی امریکہ نے افغانستان پر چڑہائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

افغانستان میں امریکی سفیر رائن کروکر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی شہریوں کی اکثریت اس دس سالہ جنگ سے تھک گئی ہے لیکن اس کے باوجود امریکی فوجی افغانستان میں رہنے چاہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رائن کروکر نے کہا ہے امریکی فوج افغانستان کی اس سر زمین پر اس لیے موجود ہے تاکہ امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک جیسا کوئی اور واقع نہیں ہو سکے۔

طالبان نے وردک صوبے میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کرنے کی ذمہ دار قبول کر لی ہے۔ طالبان نے اپنے دور میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو افغانستان میں پناہ دے رکھی تھی۔

طالبان امریکہ پر الزام لگاتے ہیں کہ اُس نے گیارہ ستمبر کے حملوں کا باہانا بنا کر افغانستان پر فوجی کشی کی۔

طالبان نے ذرائع ابلاغ کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کی تاریخ ہر سال افغانستان کے شہریوں کو ایک ایسے واقعہ کی یاد دلاتی ہے جس میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انھیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی سامراج نے کئی لاکھ معصوم اور غریب افغان شہریوں کا خون بہایا ہے۔

امریکی فوجی ترجمان میجر ڈیوڈ ایسٹبرن نے کہاکہ بارود سے بھرا ٹرک امریکی فوجی اڈے کے داخلی دروازے کے قریب ایک دیوار سے ٹکرانے سے نواسی فوجی زخمی ہو گئے اور اڈے کی دیوار میں بیس فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا۔

نیٹو نے کہا کہ اس حملے میں کم سے کم پچیس افغان شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

بگرام پر راکٹ داغے جانے کے بعد افغانستان میں سب سے بڑے اس امریکی فوجی اڈے پر گیارہ ستمبر کی یادگاری تقریب منسوخ کر دی گئی۔

افغانستان میں اس وقت ایک لاکھ امریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے تینتس ہزار اگلے سال تک واپس بلا لیے جائیں گے۔