کابل: سفارتی علاقے پر طالبان کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طالبان حملہ آور اس زیرِ تعمیر بلند عمارت پر قابض ہیں

افغان اور بین الاقوامی سکیورٹی فورسز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارتخانے، نیٹو کے ہیڈکوارٹر اور افغان پولیس کے دفاتر پر حملہ کرنے والے مسلح شدت پسندوں پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

طالبان جنگجوؤں نے منگل کی دوپہر شہر کے مرکز میں واقع سفارتی علاقے کو نشانہ بنایا ہے اور علاقے سے چھ دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کے خفیہ ادراوں اور ایک وزارت کے دفاتر ان کا ہدف ہیں تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکی سفارتخانے پر راکٹوں کی مدد سے بم پھینکے گئے ہیں۔

افغان پولیس حکام کے مطابق اب تک کی کارروائی میں چھ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے ہیں۔ کابل پولیس کے سربراہ جنرل ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے چار حملہ آوروں کو ہلاک کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حقانی نیٹ ورک کا کام ہے۔ یہ نیٹ ورک طالبان کا اتحادی ہے لیکن اپنے طور پر کارروائیاں کرتا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی سفارتخانے کے قریب سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا

اطلاعات کے مطابق اب بھی دو حملہ آور امریکی سفارتخانے سے تین سو میٹر دور واقع ایک زیرِ تعمیر بلند عمارت میں موجود ہیں اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ’آج دوپہر ایک بجے سے کابل کے عبدالحق چوراہے پر مقامی اور غیر ملکی خفیہ اداروں کے دفاتر پر بڑے پیمانے کا خودکش حملہ جاری ہے‘۔

بی بی سی کے کوئِنٹن سمروِل کے مطابق ان حملوں میں بیشتر خودکش حملہ آور ملوث ہیں اور حملوں کا منصوبہ سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور کھڑکیوں سے دور رہیں۔

واضح رہے کہ ان حملوں سے چند ہفتے قبل خودکش حملہ آوروں نے کابل میں برٹِش کونسل کے دفتر پر حملہ کیا تھا جس میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انیس اگست کو بِرٹش کونسل پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی تھی اور ان کے بقول حملوں کا مقصد سنہ انیس سو انیس میں برطانیہ سے افغانستان کی آزادی کی سالگرہ منانا تھا۔

.

اسی بارے میں