ایران: امریکی شہریوں کی رہائی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شین باور اور جوشوا فیٹل کو ان کی ساتھی سارا شورڈ کے ساتھ جولائی 2009 میں حراست میں لیا گیا تھا۔

ایران کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار نو میں جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیے جانے والے دو امریکی شہریوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

امریکی شہریوں شین باور اور جوشوا فیٹل کو غیر قانونی طور پر ملک میں آنے اور جاسوسی کرنے کے الزام میں کچھ ہی ہفتوں پہلے آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ دونوں ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ان دونوں افراد کو آنے والے دو دن میں رہا کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو ’یکطرفہ طور پر معافی دی گئی ہے‘ اور ایسا ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے‘۔

امریکی شہریوں کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایرانی اپیل جج نے ان دونوں کو پانچ پانچ لاکھ ڈالر بطور زرِ ضمانت جمع کروانا کو کہا ہے جس کے بعد وہ ایران چھوڑنے کے لیے آزاد ہوں گے۔

شین باور اور جوشوا فیٹل کو ان کی ساتھی سارا شورڈ کے ساتھ جولائی 2009 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس وقت ان تینوں نے کہا تھا کہ وہ عراقی كردستان علاقے میں پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے اور سرحد پار کرنے کا واقعہ نادانستہ طور پر پیش آیا تھا۔

سارا شورڈ کو تو ایک سال پہلے رہا کر دیا گیا تھا تاہم بقیہ دونوں امریکیوں کو ایرانی عدالت نے قید کی سزا سنا دی تھی۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکیوں کی ممکنہ رہائی کی خبریں حوصلہ افزاء ہیں اور وہ اس معاملے کا مثبت اختتام دیکھنا چاہتی ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی حکام نے ان امریکیوں کی رہائی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں