حقانی نیٹ ورک: سب سے زیادہ خطرناک

Image caption حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے ہے

امریکی حکام نےالزام عائد کیا ہے کہ کابل میں اتحادی افواج کے دفاتر اور امریکی سفارتخانے پر ہونے والے حملے میں پاکستانی سرزمین سے سرگرم حقانی نیٹ ورک کے جنگجو ملوث تھے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی حمایت سے روس مخالف تشکیل پانے والا حقانی نیٹ ورک اب خطے میں مغربی ممالک کے لیے سب سے زیادہ خطرناک جنگجوگروپ بن چکا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مغرب، بھارت اور افغانستان میں ہونے والے ہائی پروفائل حملوں میں ملوث ہیں۔

اس نیٹ ورک کے بارے میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس میں افغان شدت پسندوں کا غلبہ ہے۔

تاہم اس نیٹ ورک کی شاخیں پاکستانی سر زمین میں پائی جاتی ہیں اور یہ قیاس آرائی بھی کی جاتی ہے کہ اس کے پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے ہے اور ان کی پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جائیدادیں ہیں۔ انہوں نے سنہ انیس سو اسی کی دہائی میں شمالی وزیرستان سے سابقہ سویت یونین کے افغانستان میں قبضے کے دوران منظم کارروائیاں کیں۔

امریکی حکام یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ جلال الدین حقانی اس وقت امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک قیمتی اثاثہ تھے۔

جلال الدین حقانی کا شمار پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک پسندیدہ کمانڈروں میں ہوتا تھا جو یہ فیصلہ کرتا تھا کس کمانڈر کو سابقہ سویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے کتنے فنڈز اور ہتھیار درکار ہیں۔

اگرچہ پاکستان اور مغرب میں متعدد افراد جلال الدین حقانی کو آئی ایس آئی کا اثاثہ سمجھتے ہیں لیکن پاکستان کی فوج اس کی تردید کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغان حکام نے منگل کو کابل کے سفارتی علاقے پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کو قرار دیا تھا

ان کے خیال میں حقانی نیٹ ورک کے آگے بڑھنے کا عمل پاکستان میں موجود طاقتور عناصر کی مادی، جوڑ توڑ اور فوجی نقل و حرکت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

تاہم دفاعی تجزیہ نگاروں کو یقین ہے کہ حالیہ سالوں میں آئی ایس آئی کی حقانی نیٹ ورک پر گرفت کمزور پڑ گئی ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی سنہ دو ہزار ایک کے آخر میں اسلام آباد کے آخری سرکاری دورے پر آنے والے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔یہ وہی وقت تھا جب امریکہ نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کی۔

اس کے بعد حقانی اسلام آباد روپوش ہو گئے اور کئی مہینوں کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں سامنے آئے جہاں انہوں نے مغربی طاقتوں کے خلاف شدت پسندوں پر مشتمل ایک مزاحتمی گروپ تشکیل دیا ۔

اس کے بعد سے اب تک اس گروپ نے جتنا نقصان مغربی افواج کو پہنچایا کسی اور گروپ نے نہیں پہنچایا۔

وزیرستان میں قائم اس گروپ کی بڑھتی ہوئی طاقت نے حالیہ سالوں میں افغانستان میں برسرِ پیکار امریکیوں کو بہت نقصان پہنچایا۔

وزیرستان کے اس گروپ کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں شدت پسندوں کے مضبوط مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

اکتوبر سنہ دو ہزار ایک میں جب امریکہ نے افغانستان میں بمباری شروع کی تو ہزاروں کی تعداد میں عرب اور وسطی ایشیاء کے جنگجوؤں نے پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کا رخ کیا۔

پاکستانی فوج کی جانب سے ان جنگجوؤں کی پاکستان آمد کو روکنے کے لیے نیم دلانہ کوششوں کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں سنہ دو ہزار دو اور چار میں پرتشدد تصادم کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں پاکستان کے سات سو سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے۔

سنہ دو ہزار چھ تک شمالی اور جنوبی وزیرستان میں متعدد مقامی شدت پسند گروپ ظاہر ہوئے جنہوں نے پورے علاقے کو پاکستانی حکام کے لیے ’نو گو زون‘ بنا دیا۔

مختلف جغرافیائی حدود میں پھیلے ان گروپوں کے مختلف عزائم اور ایجنڈے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے پاکستان کی فوج کے ساتھ امن معاہدے کیے ہیں تاہم باقی گروپوں نے ان معاہدوں کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت اور شہریوں کے خلاف شہروں اور قصبوں میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

تاہم یہ تمام گروپ حقانی نیٹ ورک کے زیرِ اثر کام کرتے ہیں اور ان کی طرح طالبان کے روحانی رہنما ملا عمر کو پسند کرتے ہیں۔

جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین نے سنہ دو ہزار چھ میں جنوبی وزیرستان کے احمد زئی اور وزیر قبائل کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی کوششوں سے متعدد قبائل یکجا ہوئے۔

سراج الدین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سنہ دو ہزار پانچ اور دو ہزار آٹھ میں جنوبی وزیرستان کے مشرقی حصوں کے اس وقت کے پاکستان مخالف کمانڈر بیت اللہ محسود کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ پاکستانی فورسز کے ساتھ امن معاہدہ کریں۔

اگرچہ یہ معاہدے کامیاب نہ ہوئے تاہم حقانی نیٹ ورک اور بیت اللہ محسود کے تحریکِ طالبان پاکستان گروپ کے ساتھ مذاکرات جاری رہے۔

ان دونوں گروپوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے دسمبر سنہ دو ہزار نو میں افغانستان کے صوبے خوست میں ہونے والے خود کش حملے جس میں سی آئی اے کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے کو منظم کیا تھا۔

اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے کچھ اعلیٰ ارکان جنوبی وزیرستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

جلال الدین حقانی کے دو بھائی سنہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار گیارہ کے دوران حقانی نیٹ ورک اور تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اسلام آباد میں ان دونوں گروپوں کے درمیان امن معاہدے کے سلسلے میں کم از کم تین اجلاس ہو چکے ہیں۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقانی نیٹ ورک شدت پسندوں پر کتنا اثر رکھتا ہے اور وہ پاکستان کے قبائلی علاوہ، پاکستان اور افغانستان میں آزادانہ گھومتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں