عالمی اکثریت آزاد فلسطینی ریاست کی حامی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بی بی سی ورلڈ سروس کی جانب سے کرائے گئے ایک عالمی سروے کے نتائج کے مطابق دنیا کے اکثر ممالک کی عوام فلسطینیوں کے لیے ایک علٰیحدہ ریاست کے قیام کی غرض سے اقوام متحدہ میں قرارداد لانے کے حق میں ہے۔

گلوب سکین کے تعاون سے کرائے جانے والے اس سروے میں انیس ممالک کے بیس ہزار چار سو چھیالیس شہریوں نے حصہ لیا۔

علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت

عرب ممالک فلسطینی ریاست کے حامی

سرحدوں کا دفاع ناممکن، صدر اوباما کا موقف مسترد

ان انیس میں سے نو ممالک ایسے تھے جہاں عوام کی اکثریت نے بلاجھجک فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ان تمام ممالک میں جہاں سروے کیا گیا، انچاس فیصد افراد نے اس قرارداد کی حمایت میں اپنی رائے دی جبکہ اکیس فیصد نے کہا کہ ان کی متعلقہ حکومتوں کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے جبکہ ایک بڑا تناسب یعنی تیس فیصد ایسا تھا جس نے کہا کہ یہ حالات پر منحصر ہے کہ ان کی حکومتوں کو اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کرنا چاہیے یا پھر یہ لوگ نہیں جانتے کہ ان کی حکومتوں کو کیا کرنا چاہیے۔

قرارداد کے حق میں رائے دینے والوں کی اکثریت فلسطین کے ہمسایہ ملک مصر میں تھی جہاں نوے فیصد افراد نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ نو فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ تاہم تین اور ایسے مسلم ممالک ہیں جہاں اس کے حق میں کثرت رائے کا اظہار کیا گیا۔ ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔

چین مجموعی طور پر دوسرا ایسا ملک ہے جہاں کے عوام چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ میں لائی جانے والی قرارداد کی حمایت کرے۔ چین میں چھپن فیصد عوام اس کے حق میں جبکہ صرف نو فیصد اس کی مخالفت میں ہیں۔

اس کے علاوہ سروے کے مطابق، ترکی کے ساٹھ فیصد عوام نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ انیس فیصد نے مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کیا، پاکستان میں باون فیصد افراد قرارداد کے حامی رہے اور بارہ فیصد مخالف نکلے جبکہ انڈونیشیا میں اکیاون فیصد نے قرارداد کے حق میں اور سولہ فیصد نے مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

جن ممالک میں اس قرارداد کے بارے میں مخالفت زیادہ ہے ان میں امریکہ ہے جہاں کے عوام پینتالیس فیصد حمایت میں اور چھتیس فیصد مخالفت میں ہیں، بھارت میں بتیس فیصد حمایت میں اور پچیس فیصد مخالفت میں، فلپائن میں چھپن فیصد موافقت میں اور چھتیس فیصد مخالفت میں اور برازیل میں اکتالیس فیصد اس قرارداد کی حمایت میں ہیں جبکہ چھبیس فیصد مخالفت میں ہیں۔

اس سروے میں تین یورپی ممالک کو بھی شامل کیا گیا تھا جو فرانس، جرمنی اور برطانیہ ہیں۔ فرانس میں چوّن فیصد افراد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی جبکہ بیس فیصد مخالف ہیں، جرمنی میں یہ تناسب بالترتیب تریپن اور اٹھائیس جبکہ برطانیہ میں تریپن اور چھبیس فیصد ہے۔

روس میں زیادہ تر افراد نہیں جانتے کہ ان کی حکومت کو کیا فیصلہ کرنا چاہیے تاہم سینتیس فیصد اس قرارداد کے حق میں جبکہ تیرہ فیصد مخالفت میں ہیں۔ اسی طرح لاطینی امریکہ کے لوگوں کی بڑی تعداد اس قرارداد کے بارے میں حتمی رائے نہیں رکھتی جن کا تناسب باون فیصد ہے۔ تاہم جنہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ان میں قرارداد کے حق میں زیادہ ووٹ آئے۔

قرارداد کے حق میں سب سے زیادہ ووٹ میکسیکو میں پینتالیس فیصد رہے جبکہ پندرہ فیصد افراد نے قرارداد کی مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اسی طرح برازیل میں اکتالیس فیصد حق میں اور چھبیس فیصد مخالفت میں، چلی میں انتالیس فیصد حق میں اور نو فیصد مخالفت میں جبکہ پیرو میں اڑتیس فیصد نے قرارداد کے حق میں اور اٹھارہ فیصد نے اس کی مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

کینیڈا میں آزاد فلسطین کے لیے قرارداد کے حق میں چھیالیس فیصد افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ اس کی مخالفت میں پچیس فیصد افراد نے اپنی رائے دی جبکہ آسٹریلیا میں پچاس فیصد افراد قرارداد کے حق میں اور سترہ فیصد مخالفت میں سامنے آئے۔

تاہم امریکہ اور فلپائن کے بعد اس قرارداد کی سب سے زیادہ مخالفت افریقی ملک گھانا میں نظر آئی جہاں تینتیس فیصد افراد نے اس قرارداد کی مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

یہ سروے تین جولائی سنہ دو ہزارگیارہ کو شروع کیا گیا اور انتیس اگست سنہ دو ہزارگیارہ کو ختم کیا گیا۔ اس سروے کے نتائج کو منفی اور مثبت دو اعشاریہ ایک سے تین اعشاریہ پانچ کے درمیان درست تسلیم کیا جائے یعنی بیس میں سے انیس نتائج درست ہیں۔

گلوب سکین کے چیئرمین ڈگ ملر کا کہنا ہے ’اگر ان ممالک کے شہریوں کو اقوامِ متحدہ میں ووٹ دینے کا موقع ملے تو اس سروے سے لگتا ہے کہ اقوامِ متحدہ فلسطین کو سرکاری طور پر تسلیم کر لے گا۔ تاہم اگر ان ممالک کی حکومتیں اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیتی ہیں تب بھی ان ممالک میں اندرونی طور پر ردعمل کا امکان نہیں کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد یا تو اس بارے میں فیصلہ نہیں کر پائی یا اس کی مخالف ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں