پیرس:سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر پابندی

فرانس کی ایک مجد
Image caption ایک اندازے کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کی آبادی چھ لاکھ ہے

پیرس میں سڑکوں پر نماز اداد کرنے پر پابندی کا نفاذ شروع ہو گیاہے۔مساجد میں جگہ کم ہونے کے سبب مسلمان سڑکوں پر نماز ادا کرتے تھے۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ کلاڈ گیونٹ نے ان نمازیوں کو فائر بریگیڈ کے ان پیرکوں میں نماز ادا کرنے کی پیشکش کی ہے جو اب استعمال میں نہیں رہے۔

دائیں بازوں کی جماعت کی جانب سے مظاہروں کے بعد مسلمانوں کا سڑکوں پر نماز پڑھنے کے موضوع نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا تھا۔

مغربی یورپ میں فرانس میں سب سے بڑی مسلم آبادی رہتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کی آبادی ساٹھ لاکھ ہے جو مجموعی آبادی کا تقریباً دس فیصد ہے۔

فرانس یورپی یونین کا پہلا ملک ہے جس نے سرِ عام نقاپ پہنے پر پابندی عائد کی ہے۔

سڑکوں پر نماز پڑھنے پر پابندی کا نفاذ جمعرات کی رات سے شروع ہوا ہے۔وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ فرانس میں تقریباً ایک ہزار لوگ سڑکوں پر نماز ادا کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ دو مقامی مساجد سے اس بات پر معاہدہ ہوگیا ہے کہ اگلے تین سال کے لیے نمازیوں کے لیے فائر بریگیڈ کے غیر استعمال شدہ بیرکوں کو تین سال کے لیے کرائے پر دیا جائے گا۔

ان بیرکوں میں لوگوں کو نماز پڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے کی غرض سے چند ہفتے مساجد میں نماز ادا نہیں کی جائے گی تاکہ لوگ نئی جگہ کے استعمال کے عادی ہو جائیں ۔

مسجد کے امام محمد صالح حمزہ کا کہنا ہے کہ بیرکوں میں نماز کی تیاری کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا ہے اور افرا تفری کا عالم ہے

صالح حمزہ نے فرانس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بھیڑ بکری نہیں ہیں‘۔

اسی بارے میں