’پاکستان کے حقانی گروپ سے روابط کے ثبوت‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حقانی نیٹ ورک پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے ریڈیو پاکستان کو ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام اور حقانی گروپ کے درمیان روابط کے ثبوت موجود ہیں۔

کیمرون منٹر نے کہا ’پاکستانی حکومت اور حقانی گروپ کے رابطوں کے ثبوت موجود ہیں اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘

امریکی حکام ایک عرصے سے حقانی گروپ اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے درمیان تعاون کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں لیکن اس طرح واشگاف الفاظ میں پہلی مرتبہ کسی امریکی اہلکار نے الزام لگایا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی طرف سے فوری طور پر ان الزامات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں حقانی گروپ کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کی تنظم کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی ضرورت نہیں رہی ہے اور وہ افغانستان میں اپنے آپ کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی حکام اور حقانی گروپ کے درمیان روابط کے ثبوت موجود ہیں: کیمرون منٹر

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سراج الدین حقانی نے ایک نامعلوم جگہ سے ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں زیادہ محفوظ ہیں۔

سراج الدین حقانی کی طرف سے یہ بیان واشنگٹن کی طرف سے بیان آنے کے دو دن بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکہ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کی تو وہ خود کارروائی کریں گا۔

حقانی نیٹ ورک پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بڑی بڑی پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے ہے۔ ان کارروائیوں میں گزشتہ ہفتے کابل میں وہ حملہ بھی شامل ہے جو بیس گھنٹے تک جاری رہا۔

اُدھر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے ’ہمیں ایسے اشارے ملے ہیں کہ حملہ آوروں کا تعلق حقانی گروپ سے ہے جو دراصل طالبان سے رابطے میں ہے۔ ہم اس سلسلے میں افغانستان کی حکومت کے ساتھ مل کر تحقیقات کررہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس طرح کے حملے ہمیں افغانستان میں ہمارے مشن سے نہیں ہٹا سکتے۔‘

انہوں نے کہا ’ہم دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو پاک افغان سرحد پر کسی قسم کی پناہ گاہیں دستیاب نہ رہیں۔

افغانستان میں تعینات امریکی سفیر کروکر نے کابل میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے حق میں ہے کہ اس قسم کے گروہوں کو قابو میں لایا جائے۔

ان کے بقول ’ہمارے پاس ایسا میکینزم ہے اور ہم پاکستان اور افغانستان کے کور گروپ کے ساتھ مل کر ان معاملات پر بات چیت کررہے ہیں کہ ان گروہوں کا کس طرح مقابلہ کیا جائے جو ہم سب کے لیے خطرہ ہیں۔‘

اسی بارے میں