امریکہ: فضائی حادثہ، تین ہلاک

حادثہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حادثے میں زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر کی حالت نازک ہے۔

امریکی ریاست نیوادا میں فضائی کرتب دکھاتے ہوئے ایک ہوائی جہاز کے تماشائیوں پر گرنے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کا پی اکاون مستانگ نامی جہاز رینو کے قریب قومی مقابلے میں شرکت کے دوران تماشائیوں کے ایک سٹینڈ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔

فضائی حادثے کی تصاویر

حکام کے مطابق اس حادثے میں جہاز کے پائلٹ سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی طبی حکام نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس حادثے میں پچہتر کے قریب لوگ زخمی ہیں اور ان میں سے نصف کے قریب شدید زخمی ہیں۔

طبی ادارے کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت بڑا حادثہ ہے، شاید یہاں کئی دہائیوں میں میں ہونے والا سب سے بڑا حادثہ ہے۔‘

فضائی مظاہرے کو دیکھنے جانے والے ایک تماشائی نے بتایا کہ ان سے کچھ فاصلے پر ہی جہاز تماشائیوں پر آگرا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمی لِیوارڈ لگ بھگ چالیس برس سے فضائی مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

اس جہاز کا نام’دی گیلپنگ گھوسٹ‘ تھا اور اسے وہاں کے نامور پائلٹ جمی لِیوارڈ اُڑا رہے تھے۔

رینو ائر ایسوسی ایشن کے سربراہ مائیک ہینگٹن نے نیوز کانفرنس میں بتایا کے اسّی سالہ جمی لِیوارڈ بھی حادثہ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

جمی لِیوارڈ لگ بھگ چالیس برس سے فضائی دوڑوں میں حصہ لیتے رہے ہیں اور جمعے کے روز ہونے والے اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے ان کے خاندان کے بیشتر افراد وہاں موجود تھے۔

جمی لِیوارڈ کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں ایک سو بیس فضائی مظاہروں میں حصہ لیا اور لاتعداد فلموں میں سٹنٹ پائلٹ کے طور پر کام کیا۔

ایک اور مقامی شخص کے مطابق اس نے دیکھا کے جہاز پہلے دائیں جانب جھکا اس کے بعد وہ زمین پر گر کر تباہ ہوگیا اور’جہاز کے ٹکڑے ہر طرف بکھر رہے تھے۔‘

ایک اور عینی شاہد جیرال لینڈ نے بتایا کہ ’یہ سب ایک قتلِ عام جیسا تھا، جسیے کوئی بم پھٹ گیا ہو۔ تمام رن وے پر لوگ پڑے تھے۔ ایک لڑکے کا جسم دو ٹکڑے ہو چکا تھا۔ ہر طرف خون تھا اور وہاں بازو اور ٹانگیں پڑی تھیں۔‘

اسی بارے میں