یمن میں جھڑپیں، مزید شہریوں کی ہلاکتیں

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تشدد کے تازہ واقعات سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں سکیورٹی فورسز اور حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپوں میں مزید شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تازہ واقعے میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز صدارتی محل کے پاس سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ان مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جو صدر عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ وہ مسٹر صالح کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے حامی فوجی اور حکومت کے فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ صنعاء میں فن لینڈ کے ایک فوٹوگرافر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ عارضی ہسپتالوں میں زخمیوں کو لایا جا رہا ہے جن میں سے بہت سے زخمیوں کے پیروں پر گولی لگی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کو ایک بچہ بھی ہلاک ہوا ہے جس کا مظاہرے سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔

بچے کے والد نے رائٹرز کو بتایا ’میں بچوں کو کار میں چھوڑ کر کچھ کھانا لینے کے لیے نکلا تھا۔ میں نے آواز سنی کا بڑا والا چیخ رہا ہے۔ چھوٹے والے کے سر میں گولی ماری گئی ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق جھڑپیں صنعاء کے کئی علاقوں میں پھیل گئی ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے اتوار کے روز ہوئی ہلاکتوں کے لیے اسلامک گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ اس کے فورسز کی طرف سے فائرنگ نہیں ہوئی بلکہ اسلامک گروپ نے کی تھی۔

لیکن عینی شاہدین اور حکومت مخالف مظاہرین اس سرکاری دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے لوگ صدر صالح سے کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں تشدد کے تازہ واقعات نے مظاہرین اور صدر صالح کی حامی سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح اس وقت سعودی عرب میں زیرِ علاج ہیں۔ وہ جون میں ایک بم حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ تیس سال سے صدارتی منصب پر فائز صدر صالح کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔

اسی بارے میں