ربانی: عسکری کمانڈر، صدر اور امن کارکن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ربانی افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں سرگرم تھے۔

مذہبی سکالر، عسکری کمانڈر اور افغانستان کے سابق صدر برہان الدین ربانی ہلاک ہونے کے وقت افغانستان میں قیام امن کی بات کر رہے تھے۔

تاجک قومیت سے تعلق رکھنے والے ربانی انیس سو چالیس میں افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان میں پیدا ہوئے۔ اپنے آْبائی علاقے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کابل میں دینی تعلیم حاصل کی۔ کابل یونیورسٹی میں چار برس تک اسلامی قانون اور دینیات پڑھنے کے بعد انہوں نے اسلامی فلسفے میں قاہرہ کی الاظہر یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔اس سے قبل ہی وہ اسلامی امور پر اپنے مکالوں کی وجہ سے شہرت حاصل کر چکے تھے اور کابل یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہ چکے تھے۔

انیس سو اڑسٹھ میں جب وہ قاہرہ سے واپس افغانستان پہنچے تو انہیں جمعیت اسلامی کی ہائی کونسل نے کابل یونیورسٹی میں طلبہ کو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی، اور چار برس بعد وہ جمعیت اسلامی کے سربراہ منتخب ہوئے۔ سن چوہتر میں سوویت یونین کے زیر اثر افغان حکومت نے انہیں یونیورسٹی سے گرفتار کرنے کو کوشش کی تاہم وہ طلبا کی مدد سے فرار ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے افغاستان میں سوویت مداخلت کے خلاف اپنا گروہ منظم کیا اور افغان جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وہ کابل میں داخل ہونے والے پہلے عسکری کمانڈر تھے۔

ربانی انیس سو بانوے میں افغاستان کے صدر مقرر ہوئے، تاہم انیس سو چھیانوے میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو وہ افغان شہر فیض آباد جا بسے جہاں انہوں نے شمالی اتحاد کے ساتھ مل کر طالبان مخالف سیاست جاری رکھی۔ واضح رہے سن دو ہزار ایک میں جب افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تو اقوام متحدہ میں برہان الدین ربانی ہی ملک کے صدر تصور کیے جاتے تھے۔

گو وہ کئی برس سے افغان صدر حامد کرزئی کی حمایت کر رہے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ کرزئی حکومت کے ایک اہم نقاد بھی سمجھے جاتے تھے۔ حال ہی میں انہیں طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی اور قتل ہونے کے وقت وہ اسی سلسلے میں طالبان کے دو اراکین سے ملاقات کر رہے تھے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کلا کہنا ہے کہ طالبان کافی عرصے سے ربانی کی موت کے خواہش مند تھے اور یہ کہ کئی لوگ اس بات پر حیران تھے کہ ربانی کو امن مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی۔

ربانی حال ہی میں ایران گئے تھے جہاں انہوں نے مذہبی رہنماؤں سے تلقین کی وہ خود کش حملوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

اسی بارے میں