اموات میں کمی کے ہدف کا حصول مشکل

Image caption بچوں کی اموات میں سنہ انیس سو نوے سے دو ہزار گیارہ تک دو اعشاریہ دو فیصد سالانہ کی شرح سے کمی ہوئی

امریکی محققین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں سے صرف سات فیصد ایسے ہیں جو پانچ سال سے کم عمر بچوں اور ان کی ماؤں کی اموات میں کمی کے لیے اقوامِ متحدہ کی جانب سے طے کردہ ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے سنہ دو ہزار میں جو اپنے ہزاریہ ترقیاتی اہداف مقرر کیے تھے ان میں سے ایک سنہ 2015 تک شیرخوار بچوں کی اموات میں دو تہائی اور ان کی ماؤں کی اموات میں تین چوتھائی کمی کرنا بھی تھا۔

برطانوی سائنسی جریدے دی لینسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ایسی اموات میں کمی لانے کے لیے زوروشور سے کام جاری ہے لیکن اس سلسلے میں غریب اور امیر ممالک میں ہونے والی کوششوں کے درمیان بہت بڑی خلیج موجود ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقہ میں سب صحارا کے علاقے میں واقع تیئیس ممالک ایسے ہیں جو اس ہدف کو آنے والے تیس برس میں بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے محققین کی رپورٹ کے مطابق حالیہ شرح سے اکتیس ترقی پذیر ممالک چھوٹے بچوں کی اموات میں کمی جبکہ تیرہ ماؤں کی اموات میں کمی کا ہدف حاصل کر سکیں گے۔

وہ نو ممالک جو سنہ 2015 تک دونوں اہداف حاصل کر لیں گے ان میں چین، مصر، ایران، لیبیا، مالدیپ، منگولیا، پیرو، شام اور تیونس شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں سنہ انیس سو نوے سے دو ہزار گیارہ تک دو اعشاریہ دو فیصد سالانہ کی شرح سے کمی ہوئی ہے اور یہ تعداد گیارہ اعشاریہ چھ ملین سے کم ہو کر سات اعشاریہ دو ملین رہ گئی ہے۔

یہی نہیں بلکہ کمبوڈیا، ایکواڈور، روانڈا، ملائیشیا اور ویت نام میں اموات میں پانچ فیصد کی شرح سے کمی ہوئی جو کہ عالمی شرح سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ حوصلہ افزاء اعدادوشمار اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے کہ دنیا بھر میں اب بھی لاکھوں شیرخوار اور چھوٹے بچے ہر سال موت کا شکار ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں دنیا کے امیر اور غریب ممالک کے درمیان ایک واضح فرق پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں جہاں سویڈن، اٹلی اور یونان جیسے ممالک میں ان اموات کی شرح ایک ہزار بچوں میں ایک سے بھی کم رہی وہیں نائیجر اور استوائی گنی میں یہ شرح ستاسی کے قریب تھی جو کہ یورپی ممالک کے مقابلے میں ایک سو تہتر گنا زیادہ ہے۔

اس رپورٹ کے مرکزی مصنف پروفیسر رافال لورانزو کا کہنا ہے کہ ’اگر دنیا یہ اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے تو حکومتوں، امدادی اداروں اور ایجنسیوں کو فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے‘۔

اسی بارے میں