’کسی فریق نے کوئی الٹی میٹم نہیں دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’دونوں ممالک کی باہمی دلچسپی کے تمام امور زیرِ بحث آئے‘

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے ان اطلاعات کو رد کر دیا ہے کہ اتوار کو ان کی امریکی ہم منصب سے ملاقات کے دوران پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے الٹی میٹم دیا گیا ہے۔

نیویارک میں پیر کی شب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے سیکرٹری کلنٹن سے ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اس میں کسی بھی فریق نے کوئی الٹی میٹم نہیں دیا‘۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات اہم ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی ملک اس میں زبردستی کا کردار نہیں نبھا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اپنی مرضی سے اس میں شامل ہے‘۔

امریکی حکام نے اتوار کو ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ملاقات میں انسدادِ دہشتگردی پر عمومی اور حقانی نیٹ ورک پر خصوصی بات چیت ہوئی اور یہی اس بات چیت کا پہلا اور آخری موضوع تھا۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اس تاثر کی نفی کی اور کہا کہ بات چیت صرف ایک ہی موضوع پر نہیں ہوئی بلکہ اس میں دونوں ممالک کی باہمی دلچسپی کے تمام امور زیرِ بحث آئے۔

انہوں نے اس ملاقات کو تعمیری قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ’ہماری مدد کی جانی چاہیے نہ کہ الٹا ہم پر ہی الزام تراشی ہو۔ سرکاری سطح پر الزام تراشی تو بالکل نہیں ہونی چاہیے‘۔

اسی بارے میں