’پولیو کا وائرس پاکستان سے چین میں داخل‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ پولیو کا وائرس پاکستان سے چین میں داخل ہوا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ پولیو کا خطرناک وائرس پاکستان سے چین میں داخل ہوگیا ہے جہاں کم سے کم پولیو کے سات کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق، عالمی ادارے نے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ان کے شہریوں کو چاہیے کہ اگر وہ پاکستان جائیں تو پولیو کی ویکسینیشن ضرور کرالیں۔

ادارے کے کا کہنا ہے کہ چین میں گزشتہ دو ماہ کے دوران یہ کیسز صوبۂ سنکیانگ میں سامنے آئے ہیں جس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔ چین نے انیس سو ننانوے میں اپنے ملک سے پولیو کا خاتمہ کردیا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیو کا ٹائپ ون وائرس، ٹائپ تھری وائرس سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جبکہ ٹائپ ٹو وائرس کا دنیا سے خاتمہ ہوچکا ہے۔ اے پی کے مطابق، چین میں ٹائپ ون وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پولیو کے وائرس کا مسلمانوں کے فریضۂ حج کے دوران پھیلنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق، گلگت بلتستان میں منگل سے پولیو کے خلاف تین روزہ مہم کا آغاز کردیا گیا ہے جو بائیس ستمبر تک جاری رہے گی۔

ضلعی صحت کے افسر ڈاکٹر شاہین شاہ نے بتایا ہے کہ گلت بلتستان میں محکمۂ صحت ہر اس بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گا جس کی عمر پانچ سال یا اس سے کم ہے۔

انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے طبی ٹیموں سے تعاون کریں۔

پاکستان نے یہ مہم اسی روز شروع کی ہے جس دن عالمی ادارۂ صحت نے چین میں پولیو کے سات کیسز کی تصدیق کی ہے جن کے وائرس طبی معائنوں کے جائزے کے مطابق پاکستان سے منتقل ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں