’عالمی معیشت ایک نئے خطرناک دور میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بحران سے نکالنے کے لیے مضبوط قیادت کا سب سے اہم کردار ہوگا

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت ایک نئے خطرناک دور میں داخل ہو گئی ہے۔

تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور يورو زون میں مسلسل بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی خدشات کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر کساد بازاری کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو دنیا کی دیگر معیشتیں بھی اس سے بری طرح متاثر ہوں گی۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے یورو زون کی تیسری بڑی معیشت اٹلی کی ریٹنگ میں کمی کر دی ہے۔

اس سے قبل پیر کو آئی ایم ایف نے یونان کو متنبہ کیا تھا کہ وہ معاہدے کے مطابق اصلاحات نافذ کرے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسے اکتوبر کے لیے مقررہ آٹھ ارب یورو کی امدادی قسط نہیں دی جائے گی۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں نے موجودہ حالات سے نکلنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ دیرپا ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

ادارے نے یہ پیشنگوئی بھی کی ہے کہ سنہ2011 میں ترقی یافتہ ممالک کے مجموعی ملکی پیداوار کی ترقی کی شرح صرف ڈیڑھ فیصد ہی رہے گی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ يورو زون میں شامل ممالک کی معیشتوں میں موجود اقتصادی بےچینی کی وجہ سے سنہ دو ہزار بارہ میں عالمی ترقی کی شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں مزید ایک فیصد کمی کے بعد چار فیصد ہی رہ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں بھی اگلے کئی برس تک اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہے گی۔

سنہ2011 میں برطانیہ کی اقتصادی ترقی کے اندازوں میں بھی ترمیم کی گئی ہے اور اسے ڈیڑھ فیصد سے کم کر کے ایک اعشاریہ ایک فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ سنہ 2012 کے لیے اعلان کردہ پیشگوئی کو دو اعشاریہ تین فیصد سے کم کر کے ایک اعشاریہ چھ فیصد کر دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ میں دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں صرف جرمنی اور کینیڈا ہی ایسے ملک ہیں جہاں ترقی کی شرح دو فیصد سے زیادہ رہےگی اور سنہ دو ہزار بارہ میں جاپان کے علاوہ کسی اور ملک میں ترقی کی شرح مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہو گی۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ امریکہ اور يورو زون کے ممالک کو بحران سے نکالنے کے لیے ان ممالک کی مضبوط قیادت کا سب سے اہم کردار ہوگا۔

ادارے کے چیف اکانومسٹ اولیور بلیكارڈ کا کہنا ہے کہ يورو زون کے ملک قرضوں کے بحران سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’عام خیال یہی ہے کہ پالیسیاں بنانے والے لوگ ایک قدم پیچھے چل رہے ہیں اور اس سلسلے میں یورپی ممالک کو مشترکہ طور پر کوشش کرنی ہوگی‘۔

رپورٹ میں امریکہ میں اقتصادی بحالی کے عمل کے سلسلے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنے والے وقت میں اسے قرض کے حصول کی کمزور اندرونی مارکیٹ اور خراب ہوتی اقتصادی صورتحال وجہ سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور امریکہ اور يورو زون کے ملک ایک بار پھر مندی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ امریکہ کو عوامی قرض پر کنٹرول کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہوئے اقتصادی بحالی کو جاری رکھنے والی پالیسیوں کو لاگو کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے امریکہ میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں