’امداد شدت پسندگروہوں کے خلاف کارروائی سے مشروط‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب اس بل کو امریکی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا

امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دیتے ہوئے اسے شدت پسند گروہوں خصوصاً حقانی گروپ کے خلاف کاروائی سے مشروط کر دیا ہے۔

سینیٹ کی اپراپریئیشن کمیٹی نے یہ فیصلہ بدھ کو واشنگٹن میں کیا۔

حقانی نیٹ ورک: سب سے زیادہ خطرناک

’پاکستان کے حقانی گروپ سے روابط کے ثبوت‘

یہ امداد سنہ دو ہزار نو میں قائم کیے جانے والے انسدادِ دہشتگردی فنڈ کی مد میں دی جانی ہے۔ اس فنڈ کی تشکیل کا مقصد پاکستانی فوج کی اپنی سرحدوں میں شدت پسندوں کے کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ کرنا تھا۔

امداد کی یہ رقم اوباما انتظامیہ کی جانب سے درخواست شدہ رقم سے سو ارب ڈالر کم ہے۔ تاہم معاشی امداد کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔

کمیٹی نے مالی سال دو ہزار بارہ کے لیے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد کے لیے رقم کے تعین کا فیصلہ اوبامہ انتظامیہ پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس رقم کی حد مقرر کر کے کانگریس کو مطلع کرے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمیٹی کے رکن سینیٹر مارک کرک کا کہنا تھا کہ ’اگر انتظامیہ کچھ بھی نہیں دینا چاہتی تو ہمیں اس پر بھی اعتراض نہیں ہے‘۔

کمیٹی کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کو حقانی نیٹ ورک، القاعدہ اور دوسری شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی سے مشروط کیے جانے کے فیصلے کے نفاذ کے لیے اس کی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں منظوری ضروری ہے۔

یہ پابندیاں غیر ملکی امداد کے اس بل کا حصہ ہیں جو اسی کمیٹی نے منظور کر کے سینیٹ کو بھیج دیا ہے۔

پاکستان امریکی محکمۂ دفاع کے ذریعے امریکی فوج سے بھی امداد حاصل کرتا ہے لیکن رواں سال امریکہ نے دونوں ممالک کے تعلقات میں کھنچاؤ کے بعد اس امداد کا ایک تہائی حصہ جو کہ آٹھ سو ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے، روکا ہوا ہے۔

رواں مالی سال میں امریکی کانگریس پاکستان کے لیے ایک ارب ستّر کروڑ ڈالر کی اقتصادی اور دو ارب ستّر کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کی منظوری دے چکی ہے۔

امریکی حکومت کی جانبب سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شدت سے دہرایا گیا ہے اور منگل کو ہی امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ پاکستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں انتخاب کا آپشن موجود نہیں ہے۔

ان کے علاوہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو حقانی گروپ سے اپنے تمام رشتے توڑنے ہوں گے۔ انہوں نے بھی منگل کو واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ’آئی ایس آئی ایک عرصے سے پراکسیز کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے اب اسے سٹریٹیجک بنیادوں پر ان سے دور ہونے کا فیصلہ کرنا ہوگا‘۔

اسی بارے میں