یورپی حصص بازاروں میں استحکام

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حصص بازاروں میں گراوٹ آئی ایم ایف کی تنبیہ کے بعد ہوئی ہے۔

جمعرات کے روز ہونے والی مندی کے بعد جمعے کو یورپی بازارِ حصص میں قدرے استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مرکزی انڈیکس میں ابتدائی لمحات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گذشتہ روز یورپی بازارِ حصص پانچ فیصد تک گر گئے تھے۔

جی ٹوئنٹی نے سٹاک مارکیٹوں کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ حصص بازاروں کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یورپی مارکیٹس ایک ہفتے سے مسلسل غیر یقینی سے دوچار ہیں۔

’عالمی معیشت ایک نئے خطرناک دور میں‘

’اخراجات کم کریں مگر ترقی پر توجہ دیں‘

جمعرات کے روز امریکی اور یورپی بازارِ حصص میں ہونے والے گراوٹ کے بعد جمعہ کو ایشیائی حصص بازاروں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

حصص بازاروں میں یہ مندی عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ایک بار پھر عالمی کساد بازاری کے حالات پیدا ہونے کی تنبیہہ کے بعد شروع ہوئی۔

جمعہ کو ایشیائی بازاروں میں کاروبار کا آغاز ہوتے ہی جنوبی کوریا کا مرکزی بازارِ حصص کوسپی انڈیکس چار اعشاریہ سات فیصد، آسٹریلیا کا ’اے ایس ایکس‘ ایک اعشاریہ دو فیصد تک گر گیا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس جمعے کے روز تعطیل کے باعث بند رہا۔

جمعرات کو عالمی مالیاتی ادارے کے سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے کہا تھا کہ عالمی معیشت خطرناک صورتحال سے دوچار ہونے والی ہے۔

اس سے پہلے ورلڈ بینک کے صدر رابرٹ زؤیلک نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں ’دنیا خطرے کی حالت میں ہے۔‘

عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان کے بیان بازارِ حصص پر بہت اثر انداز ہوئے حالانکہ پالیسی بنانے والوں نے یورپ کے قرضوں کے بحران کو حل کرنے کے لیے کافی کوشششیں کی ہیں۔

بیس ممالک کے گروپ وہ آئی ایم ایف ارو ورلڈ بینک کے ہمراہ واشنگٹن میں ایک ملاقات کریں گے۔

آسٹریلیا کینیڈا، انڈونیشیا، برطانیہ، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور جنوبی کوریا نے فرانس کو ایک کھلے خطے میں لکھا ہے کہ ’یورپی ممالک کی حکومتوں اور اداروں کو یورپی بحران سے نمٹے کے لیے نہایت جلد اقدامات کرنے ہوں گے اور تمام یورپی ممالک کو قرضوں کے بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ عالمی معیشت کو اس کے اثرات سے بچایا جا سکے۔‘

فرانس اس وقت جی ٹوئنٹی کا سربرارہ ہے۔

ایک دوسرے بڑے گروپ جس میں قین، روس، برازیل، بھارت، اور جنوبی افریقہ شامل ہیں نے کہا ہے کہ وہ شاید آئی ایم ایف کو رقم قرض دیں تاکہ وہ عالمی مالیاتی مسائل میں مدد فراہم کر سکے۔

اسی بارے میں